عوام‘ بلاخوف و خطر رائے دہی میں حصہ لیں۔انجنی کمارکی اپیل

کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار نے عوام سے 7؍ دسمبر کو منعقد شدنی اسمبلی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں19اسمبلی حلقے ہیں جہاں کی آبادی86لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور رائے دہی کے دن انہیں گھروں سے نکل کر حق رائے دہی سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ سوفیصد رائے دہی کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہندوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ عوام کو رائے دہی سے روکنے کی کوشش کرنے والے مجرمین پر شکنجہ کساجاچکا ہے، چنانچہ فی الحال وہ یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر پولیس کی سخت نگرانی میں۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے دوران خلل اندازی کی صورت میں پولیس اندرون5منٹ وہاں پہنچے گی ۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ اور آزادانہ رائے دہی کے لیے 22ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا اور ہر مرکز رائے دہی پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے تا کہ خاطیوں کی آسانی سے شناخت کی جاسکے۔ تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن کی جانب سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس کمشنر نے عوام کے درمیان ان خدشات کو بھی دور کیا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں 6؍ دسمبر کو یوم سیاہ کے اگلے دن 7؍ دسمبر کو رائے دہی مقرر ہے اور اس دن جمعہ آنے کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پولیس پر بھرپور اعتماد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعہ کا دن مقدس ہوتا ہے اور رائے دہی بھی جمہوریت کے لیے مقدس ہوتی ہے۔ انہیں کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔ انہوں نے اس بات سے بھی عدم اتفاق کیا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہلز میں جرائم کی جو شرح ہے وہی پرانے شہر میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد شہر میں تقریباً ایک کروڑ کی کثیر آبادی ہونے کے باوجود ‘ دیگر مساوی آبادی کے حامل شہروں کے مقابلے میں یہاں جرائم کی شرح کم ہے ۔ انہوں نے پُرزور الفاظ میں کہا کہ حیدرآباد دیگر شہروں کے مقابلے میں بے حد پُرامن شہر ہے ، بلاشبہ یہاں جرائم ہورہے ہیں مگر بے حد کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ ہے مگر یہ روزانہ شہر کی سڑکوں پر 800نئی موٹر گاڑیوں کے اضافہ کی وجہ سے ہے۔پولیس کمشنر نے کہا کہ میڈیا اور الیکشن جمہوریت کے دو ستون ہیں۔ صحافت کی آزادی کو سماج کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ میڈیا ناخوشگوار واقعہ پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے مگر اسے ذمہ دار طریقے سے خبر پیش کرنی چاہیے۔ انہوں امریکہ کے 9/11 واقعہ کا حوالہ دیا، جس میں اندرون ایک گھنٹہ 4ہزار افراد ہلاک ہوئے مگر کسی میڈیا نے نعشوں کی تصاویر نہیں دکھائیں حالانکہ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں تھی مگر میڈیا نے از خود اسے نہیں دکھایا کیوں کہ اس سے عوام بالخصوص بچوں پر برا اثر پڑتا۔ یہاں کے میڈیا کو بھی اسی طرح ذمہ دار ہونا چاہیے۔

جواب چھوڑیں