مشترکہ یوروپی فوج کے قیام پر میکرون کی تجویز توہین آمیز:ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی جانب سے مشترکہ یوروپی فوج بنانے کی تجویز کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوروپ کو پہلے ناٹو کے اخراجات میں اپنا مناسب حصہ ڈالنا چاہیے۔امریکی صدر ٹرمپ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے ہیں جہاں وہ ہفتے کو فرانس کے صدر سے مذاکرات کریں گے۔فرانسیسی صدر نے امریکہ، چین اور روس سے تحفظ کے لیے یوروپی فوج بنانے کی تجویز دی تھی جسے امریکی صدر نے انتہائی توہین آمیز قرار دیا۔ٹرمپ نے پیرس آمد پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یوروپ کو پہلے ناٹو کے اخراجات میں اپنا مناسب حصہ ڈالنا چاہیے،ناٹو کے اخراجات کا بڑا حصہ امریکہ ادا کر رہا ہے۔واضح رہے کہ فرانس میں جنگ عظیم اول کی 100 سالہ تقریبات اتوار کو ہوں گی، ماضی میں 11 نومبر 1918 کو جنگ کے فریقین کے درمیان ا?زمائشی معاہدہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اس جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔پیرس میں منعقدہ تقریبات میں روسی صدر سمیت درجنوں عالمی سرابراہان شرکت کریں گے، اس موقع پر صدر ٹرمپ بلوووڈ بھی جائیں گے جہاں 26 جون 1918 کو جرمن فوج کے حملے میں 1800 امریکی فوجی مارے گئے تھے جس کے بعد امریکہ نے اسے فتح کیا تھا۔امریکی صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے مشترکہ یورپی فوج بنانے کی تجویز کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو پہلے نیٹو کے اخراجات میں اپنا مناسب حصہ ڈالنا چاہیے۔امریکی صدر ٹرمپ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کیلئے فرانس پہنچے ہیں۔ فرانسیسی صدر نے امریکہ، چین اور روس سے تحفظ کے لئے یورپی فوج بنانے کی تجویز دی تھی جسے امریکی صدر نے انتہائی توہین آمیز قرار دیا۔ٹرمپ نے پیرس آمد پر ٹوئٹ میں کہا کہ یورپ کو پہلے نیٹو کے اخراجات میں اپنا مناسب حصہ ڈالنا چاہیے،نیٹو کے اخراجات کا بڑا حصہ امر یکہ ادا کر رہا ہے۔واضح رہے کہ فرانس میں جنگ عظیم اول کی 100 سالہ تقریبات اتوار کو ہوں گی، ماضی میں 11 نومبر 1918 کو جنگ کے فریقین کے درمیان آزمائشی معاہدہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اس جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن کے ساتھ جس ملاقات کی افواہیں ہیں وہ انجام پائے گی یا نہیں۔ٹرمپ بعد میں بیلو و وڈ کا دورہ کریں گے جو وہ مقام ہے جہاں امریکی فوجیوں نے ایک انتہائی سے خونریز جنگ لڑی تھی۔اس لڑائی میں 1811 امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب انہوں نے جرمن چوکیوں پر حملہ کیا تھا۔ بیشتر لڑائی دست بدست ہوئی تھی۔ تین ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکی فوجیوں نے 26 جون 1918 کو بیلو ووڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔فرانسیسی مورخ جین مائیکل سٹیگ کہتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کو دشمن کی شدید فائرنگ کا سامنا ہوا تھا۔ اور بجائے پسپائی اختیار کرنے کے اور پیچھے ہٹنے کے اور توپوں کی کمک کا انتظار کرنے کے، جو جنگ کے اس دور میں فوجیوں کا معمول کا رویہ ہوتا تھا، وہ پر جوش رہے۔جنگ کے خاتمے تک ایک لاکھ 16 ہزار امریکی فوجی یورپ کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے تھے۔ ایک سو سال بعد بین البر اعظمی تعلقات کشیدہ ہیں لیکن اتحاد برقرار ہے۔امریکی فوجی قبرستان موسے ارگون کے سپرنٹنڈنٹ بروس مالون جونیئر کہتے ہیں کہ ان طاقتوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ آسان نہیں تھے۔ اور اس کی وجوہات ہیں۔ لیکن جب آپ یہاں آتے ہیں جہاں ان دیہاتوں کے لوگ یاد کرتے ہیں، تو امریکی فوجیوں کے لیے بہت احترام ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں