مودی نے 15 چنندہ صنعتکاروں کا 3.5لاکھ کروڑ کا قرض معاف کردیا: راہول گاندھی

کانگریس صدر راہول گاندھی نے ہفتہ کے دن وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 15 چنندہ صنعتکاروں کا 3.5 لاکھ کروڑ کا قرض معاف کردیا۔ راہول نے کرپشن کے مسئلہ پر چیف منسٹر رمن سنگھ کو بھی نشانہ تنقید بنایا۔ ریاست میں اپنی انتخابی مہم کے دوسرے دن جہاں پیر کے دن پہلے مرحلہ کی پولنگ ہوگی‘ راہول گاندھی نے مبینہ چٹ فنڈ اسکام‘ سیول سپلائز اسکام اور چیف منسٹر کے لڑکے ابھیشیک سنگھ کے سمندر پار اثاثوں کے معاملہ میں بھی رمن سنگھ حکومت کو نشانہ تنقید بنایا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ گذشتہ 4-5 برس میں مودی نے 15 بڑے رئیسوں کو 3.5 لاکھ کروڑ روپے دے دیئے جبکہ ملک میں منریگا اسکیم چلانے کے لئے ہر سال 35 ہزار کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں۔ مودی نے اس رقم کا 10 گنا قرض 15 چنندہ صنعتکاروں کا معاف کردیا۔ راہول نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ 5 برس میں زرعی مراکز بنیں اور ملک کو غذا ‘ میوے اور ترکاریاں فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے خزانہ کی کنجیاں 15چنندہ لوگوں کو سونپ دیں لیکن کانگریس قاہتی ہے کہ یہ کنجیاں کسانوں‘ نوجوانوں‘ غریبوں ‘ خواتین اور قبائلیوں کو ملیں۔ مودی جی 15 لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ہم کروڑوں ہندوستانیوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رمن سنگھ پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ چٹ فنڈ اسکام میں 5 ہزار کروڑ روپے غائب ہوگئے۔ 60  افراد مرے‘ 310 ایف آئی آر درج ہوئیں لیکن کوئی بھی جیل نہیں گیا کیونکہ چیف منسٹر کارروائی نہیں چاہتے۔ ایک ڈائری ملی ہے جس میں لکھا ہے کہ پیسہ ڈاکٹر صاحب کو دیا گیا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کون ہیں؟۔ چیف منسٹر اس کا جواب دینا نہیں چاہتے تو انہیں عوام کو بتانا چاہئے کہ ان کے لڑکے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی جس کا نام پنامہ پیپرس میں آیا ہے۔90 رکنی چھتیس گڑھ اسمبلی کے لئے 12 نومبر اور 20  نومبر کو 2 مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ راہول گاندھی نے بعدازاں جگدل پور میں کہا کہ انیل امبانی کی واحد قابلیت (رافیل کا آفسیٹ کنٹراکٹ حاصل کرنے میں) وزیراعظم سے دوستی ہے۔ راہول نے کہا کہ خود کو ملک کے وسائل کا چوکیدار قراردینے والے مودی نے پچھلی یوپی اے حکومت کے دور میں طے پائی لڑاکا طیارہ معاملت اپنے صنعتکار دوست کو فائدہ پہنچانے تبدیل کردی۔ وزیراعظم نے سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ(ایچ اے ایل) سے آفسیٹ کنٹراکٹ چھین کر انیل امبانی کو دے دیا جنہوں نے کبھی کوئی طیارہ نہیں بنایا۔ مودی کو وضاحت کرنی ہوگی کہ انہوں نے انیل امبانی کو ٹھیکہ کیوں دیا جو بینکوں کو 45 ہزار کروڑ روپے کی رقم باقی ہیں۔ امبانی کی قابلیت کیا ہے؟ ۔ وہ صرف چوکیدار کے دوست ہیں۔ ہندوستان کی آفسیٹ پالیسی کے تحت بیرونی دفاعی کمپنیوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ کُل ٹھیکہ کا کم ازکم 30 فیصد ہندوستانی کمپنیوں کو دیں۔ انیل امبانی الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں