نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے معاشی ترقی روک دی: رگھورام راجن

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے گذشتہ برس معاشی ترقی کو روکے رکھا۔ سابق گورنر آر بی آئی رگھورام راجن نے یہ بات کہی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ 7 فیصد شرح ترقی ملک کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ناکافی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلفورنیا (برکلی) میں جمعہ کے دن خطاب میں انہوں نے کہا کہ 2012 تا 2016 چار سال ہندوستان تیزی سے ترقی کررہا تھا کہ دو بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے یکے بعد دیگرے جھٹکوں نے ہندوستان کی معاشی ترقی پر اثر ڈالا۔ ترقی ایسے وقت رکی جب عالمی معیشت فروغ پارہی تھی۔ راجن نے ہندوستان کے مستقبل پر دوسرا بھٹاچاریہ لکچر دیتے ہوئے کہا کہ 25 سال کے لئے ہر سال 7 فیصد شرح ترقی انتہائی مضبوط ترقی ہے لیکن ایک طرح سے یہ نئی ہندو شرح ترقی بن گئی جو سابق میں 3.5 فیصد ہوا کرتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ لیبر مارکٹ میں جس قسم کے لوگ آرہے ہیں ان کے لئے 7 فیصد کافی نہیں ہے ۔ ہمیں ان کے لئے نوکریاں درکار ہیں۔ ہم اس سطح پر قناعت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان زیادہ کھلی معیشت بن گیا ہے۔ دنیا ترقی کرے گی تو وہ بھی زیادہ ترقی کرے گا۔ 2017 میں کیا ہوا‘ دنیا ترقی کررہی تھی کہ ہندوستان ڈھیر ہوگیا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار حقیقت میں بڑی مار ثابت ہوئی۔ بڑھتے ڈوبے قرض پر راجن نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کلین اَپ کرنا ہوگا۔ لیبر مارکٹ میں جتنے لوگ آرہے ہیں ان کے لئے ہندوستان کو ہر ماہ 10لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی فیصلہ سازی میں اقتدار زیادہ مرکوز ہوگیا ہے۔ ہندوستان کو مرکز سے نہیں چلایا جاسکتا۔ ہندوستان اس وقت کام کرے گا جب آپ زیادہ لوگوں پر ذمہ داری ڈالیں۔ آج مرکزی حکومت زیادہ مرکوز ہوگئی ہے۔ اس کی ایک مثال حکومت اور آر بی آئی کا ٹکراؤ ہے۔

جواب چھوڑیں