کرناٹک میں ٹیپوجینتی تقاریب‘ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی عدم شرکت

کرناٹک میں آج ’’ ٹیپو جینتی تقاریب ‘ بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کی احتجاجیوں کے بیچ منائی گئیں۔ان تقاریب کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ریاستی حکمراں ۔کانگریس ۔جنتادل ( ایس ) اتحاد کی صفوں میں ( موجود ) اختلافات سامنے آگئے ۔18 ویں صدی کے متنازعہ حکمران میسور ٹیپور سلطان کے یوم پیدائش کی تقاریب کے موقع پر ساری ریاست کرناٹک میں زبردست سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ اصل تقریب بنگلورو میں ریاستی سکریٹریٹ میں منعقد ہوئی ۔ چیف منسٹر کماراسوامی نے شرکت نہیں کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں تین روز کے لیے 11 نومبر تک آرام لینے کا مشورہ دیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر جی پرمیشور ‘ مبینہ طور پر سنگاپور میں ہیں ۔ وہ ‘ کرناٹک کے بیمار سیاستداں کی مزاجی پرسی کے لیے وہاں گئے ہیں ۔ ٹیپو جینتی تقاریب کے خلاف بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں نے احتجاج کیا ۔ ریاستی سکریٹریٹ کو عملاً ایک قلعہ میں تبدیل کردیاگیاتھا ۔ کئی گھیروں پر مشتمل سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ پولیس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی شخص تقریب گاہ میں دوائیں ‘عطریات یا پانی کی بوتلیں تک نہ لے جاسکے ۔ ریاستی وزیر آبپاشی ڈی کے شیو کمار ‘ ریاستی وزیر اقلیتی امور ضمیر احمد خان و نیز ارکان اسمبلی روشن بیگ اور این اے حارث نے اصل پروگرام میں شرکت کی ۔ پروگرام کے موقع پر بی جے پی پر الزام عائد کیاگیا کہ وہ ان تقاریب کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے ۔ چیف منسٹر او رڈپٹی چیف منسٹر کی غیر حاضری پر حکمراں اتحاد کی صفوں میں ناراضگی پائی گئی ۔ کانگریس کے ایک ایم ایل اے نے چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی عدم شرکت کو مسلمانوں کی ’’ توہین ‘‘ قرار دیا ۔ رکن اسمبلی و سابق وزیر تنویر سیٹھ نے درخواست کی کہ چیف منسٹر ‘ کم از کم اُس تقریب میں شرکت کریں ‘جو ایک محل میں منعقد ہورہی ہے ‘اور یہ محل اس مقام سے قریب ہے جہاں کمارا سوامی آرام لے رہے ہیں ۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کئی کانگریسی قائدین بالخصوص مسلم فرقہ سے تعلق رکھنے والے کانگریسی قائدین ‘ ٹیپو جینتی تقاریب میں چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی عدم شرکت پر ناراض ہیں ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ جب کمارا سوامی اپوزیشن میں تھے تب انہوں نے ایسی تقاریب کے انعقاد کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا ۔ ان تقاریب کاآغاز سدارامیا کی زیر قیادت سابق حکومت نے کیاتھا ۔ قدیم میسورو کا علاقہ جنتادل ( ایس ) کا گڑھ سمجھا جاتاہے۔ کمارا سوامی نے اس علاقہ میں رائے دہندوں کی مخالفت نہ مول لینے کے لیے مبینہ طور پر مذکورہ تقریب میں شرکت سے گریز کیا ۔ بتایاجاتاہے کہ ماضی میںٹیپوسلطان نے مذکورہ علاقہ میں میسور کے مہاراجاؤں سے اقتدار چھین لیاتھا ‘جبکہ وہاں اِن راجاؤں کو عملاً احترام کی نظروں سے دیکھاجاتاتھا ۔ اسی دوران چیف منسٹر کی عدم شرکت پر چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیاہے کہ کمارا سوامی نے جینتی تقاریب کی کامیابی کے لیے اپنی نیک تمناؤں کااظہار کیا اور کہاہے کہ نظم و نسق میں ٹیپو کے ترقی پسندانہ اقدامات اور اختراعات کے میدان میں ان کی جستجو ’’ لائق ستائش ‘‘ تھی ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وہ ڈاکٹر کے مشورہ پر آرام لے رہے ہیں ۔ ’’ یہ بات بعید از حقیقت ہے کہ اقتدار سے محرومی کے خوف سے وہ مذکورہ تقاریب میں حصہ نہیں لے رہے ہیں ۔ وہ ایسے اندھے تصورات کی مخالفت کرتے ہیں ۔‘‘ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں یہ بات بتائی گئی ۔ ریاست کرناٹک میں کمارا سوامی کی زیر قیادت کانگریس ۔ جنتادل حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد یہ پہلی ٹیپو جینتی تقاریب تھیں ۔یواین آئی کے بموجب ریاست کے کوڈاگو ضلع میں ٹیپو سلطان جینتی تقریب کے خلاف بی جے پی کے 3 ایم ایل اے اور سینکڑوں کارکنوں کو پولیس نے ہفتہ کو گرفتار کرلیا۔ بی جے پی نے ٹیپو جینتی کی سرکاری سطح پر منانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان 19ویں صدی کا کٹر مذہبی حکمراں تھا اور کرناٹک اور کیرالا میں بڑی تعداد میں ہندوؤں کو قتل کرنے میں ملوث تھا۔ اس نے لوگوں کو تبدیلی مذہب کے لئے مجبور کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ کوڈاگو میں امتناعی احکام کے باوجود اسمبلی کے سابق اسپیکر اور وراج پیٹ کے ایم ایل اے کے جی بھوپیا کو بی جے پی کارکنوں کی مخالفت میں ریالی نکالنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

جواب چھوڑیں