بھگوا ملزمین کے رویہ سے عدالت برہم۔مالیگاؤں دہشت گردانہ معاملہ میں گواہی کیلئے ڈاکٹر طلب

پاورلوم شہر کے طورپر مشہور مہاراشٹرا کے مالیگائوں میں2008 میں ہوئے دہشت گردانہ معاملہ میں آج یہاں بھگوا ملزمین نے بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے 6مسلم نوجوان اور 101 زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد خصوصی این آئی اے عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ ڈاکٹروں کو گواہی کیلئے طلب کرے جنہوںنے میڈیکل رپورٹ مرتب کی تھی۔ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹرا( ارشد مدنی) لیگل سیل کے وکلاء کے مطابق آج ملزمین رمیش شیواجی اپادھائے‘ کرنل شریکانت پروہت اور سدھاکر دھروویدی کے وکلاء نے این آئی اے عدالت کے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایاکہ وہ استغاثہ کی جانب سے داخل کی گئی میڈیکل رپورٹ کو قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ دیگر ملزمین پرگیہ سنگھ ٹھاکر‘ سمیر شرد کلرنی‘ اجئے راہیکر‘ سدھاکر اومکارناتھ‘ چترویدی نے میڈیکل رپورٹ کو قبول کرلیا۔ تین ملزمین کی جانب سے میڈیکل رپورٹ قبول (ایڈمیٹ ) نہیں کئے جانے پر خصوصی جج نے برہمی کا اظہار کیا اور کہاہ ملزمین کا یہ فیصلہ عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنا ہے کیونکہ عموماً میڈیکل رپورٹ کو ملزمین ایڈمیٹ کرلیتے ہیں تاکہ گواہوں کی فہرست کو تجاوز ہونے سے بچایاجاسکے۔ عدالت نے آج کی کارروائی کے بعد سماعت 15نومبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی این آئی اے عدالت نے 7ملزمین کیخلاف فرد جرم عائد کی تھی جس کے بعد استغاثہ نے عدالت میں میڈیکل رپور سمیت گواہوں کی فہرست پیش کی تھی جس پر عدالت نے ملزمین سے جواب طلب کیا تھا۔

جواب چھوڑیں