نائیڈو ، چور دروازہ سے تلنگانہ کی سیاست میں داخلے کے خواہاں:کے ٹی آر

کارگذار ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے چیف منسٹر آندھرا پردیش و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرا بابو نائیڈؤ پر چور دروازہ سے تلنگانہ کی سیاست میں داخل ہونے کا الزام عائد کیا اور سیاسی عظیم اتحاد کو کچرا اتحاد قرار دیا ۔ مفاد پرست قائدین ایک جگہ جمع ہوگئے ہیں۔ آج صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ ورکن کونسل محمد سلیم کی زیر صدارت نامپلی میں ٹی آر ایس کا اجلاس برائے اقلیت منعقد کیا گیا ۔ کارگذار وزرا این نرسمہا ریڈی اور کے تارک راما راؤ ، ایم ایل سی فاروق حسین ، صدرنشین حج کمیٹی مسیح اللہ خان، صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سید اکبر حسین کے علاوہ دیگر نے شرکت کی ۔ محمود علی نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں جیسے بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے لیکن کسی بھی ریاست کے چیف منسٹر نے ایک مسلمان کو ریاست کا ڈپٹی چیف منسٹر نہیں بنایا ہے ۔ جبکہ کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے قیام کے بعد ایک مسلمان اور ایک دلت کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدوں پر فائز کیا ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کیلئے سابق کانگریس حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے200 سے زائد اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں۔ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو ہمیشہ بی جے پی کا خوف دلاکر ان کے ووٹوں کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس نے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کئے ہیں جس کے باعث مسلمانوں کی معاشی ، تعلیمی حالت دلتوں سے بھی کمزور ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے شادی مبارک اسکیم، اوورسز اسکالرشپ دیگر فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آریس دور حکومت میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے شہر حیدرآباد کو کرفیو سے پاک کردیا ہے اور کہا کہ عوام کے تعاون سے ٹی آر ایس دوبارہ شاندار کامیابی حاصل کرے گی ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ وہ گذشتہ37 سال سے عوام کی خدمت کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ عوام پر ور قائد ہیں۔ حکومت نے 22کروڑ روپے کی لاگت سے انیس الغرباء کی جدید عمارت کے تعمیری کام کا آغاز کیا ہے۔ پروگرام میں محمد امیر، وحید الدین ایڈوکیٹ، عبدالمقیت چندا اور دیگر شریک تھے ۔

جواب چھوڑیں