کانگریس کی تیسری فہرست جاری

کانگریس نے ہفتہ کو13 امیدواروں پر مشتمل تیسری فہرست جاری کی ہے جس میں پونالہ لکشمیا کا نام بھی شامل ہے 2014 تک متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے لکشمیا کا نام پارٹی امیدواروں کی پہلی اور دوسری فہرست میں شامل نہیں تھا۔ آج جاری کردہ پارٹی امیدواروں کی تیسری فہرست میں پونالہ لکشمیا کا نام شامل ہے ۔ پونالہ لکشمیا، اپنے آبائی حلقہ جنگاؤں سے مقابلہ کریں گے ۔ پہلے یہ قیاس لگایا گیا تھا کہ جنگاؤں کی یہ نشست ، مہا کوٹمی میں شامل تلنگانہ جناسمیتی کے حوالے کی جائے گی ۔ عظیم تر اتحاد ( مہا کوٹمی) کانگریس کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا ہے جس میں ٹی ڈی پی ، تلنگانہ جنا سمیتی اور سی پی آئی شامل ہیں۔ شہر کے حلقہ اسمبلی صنعت نگر سے ٹی ڈی پی امیدوار کی حیثیت سے کنا وینکٹیش گوڑ کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس کے سینئر قائد ایم ششی دھر ریڈی کے اس حلقہ سے پارٹی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرنے کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔کانگریس کی تیسری فہرست میں اسمبلی حلقہ جنگاؤں سے پونالہ لکشمیا، نظام آباد (اربن) سے طاہر بن ہمدان، کاروان سے عثمان الہاجری،بہادر پورہ سے کلیم بابا، اسمبلی حلقہ بوتھ (ایس ٹی ) سے ایس با پو راؤ، نظام آباد ( رورل) سے ڈاکٹر آر بھوپتی ریڈی، بالکنڈہ سے ای انیل کمار، ایل بی نگر سے ڈی سریدھر ریڈی، یاقوت پورہ سے کے راجندر راجو، کولا پور سے بی ہریشوردھن ریڈی ، دیورکنڈہ ( ایس ٹی ) بالو نائیک، تنگا ترتی (ایس سی ) سے اڈ کی دیاکر اور یلندو ( ایس ٹی ) حلقہ سے شریمتی بی ہری پریا نائک کوٹکٹ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے سابق میں دو فہرستیں جاری کرتے ہوئے75 امیدواروں کا اعلان کیاتھا ۔ اس طرح امیدوراوں کی تعداد بڑھ کر88ہوگئی۔جن ماباقی حلقوں سے کانگریس امیدواروں کے ناموں کا اعلان باقی ہے ان میں مریال گوڑہ ، نارائن پیٹ ، نارائن کھیڑ، کورٹلہ، حضور آباد اور دیورکدرا شامل ہیں۔ کانگریس کے اعلان کردہ88 امیدوارو ں میں32کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے جبکہ 7مسلمان ہیں۔ ماباقی کا ایس سی ، بی سی ، ایس ٹی اور دیگر طبقات سے ہے ۔ اس دوران کانگریس نے کل رات سے ہی امیدواروں کو بی فارم جاری کرنا شروع کردیا آج دوپہر تک تقریباً 75 امیدوار بی فارم حاصل کرچکے تھے ۔ بی فارم صدر ٹی پی سی سی اتم کمار ریڈی کے مکان پر جاری کئے جارہے ہیں ۔ کانگریس کے ناراض قائد پونالہ لکشمیا کو بھی ٹکٹ دے دیا ہے ۔ جس سے ان کے حلقوں میں زبردست مسرت کی لہر پائی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں