مظفر پور شیلٹر ہوم میں 5لڑکیوں کی موت: سی بی آئی

سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن (سی بی آئی نے پتہ چلایا ہے کہ بہار کے ضلع مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں 2 نہیں بلکہ 5 کمسن لڑکیوں کی موت واقع ہوئی ۔سابق میں کہا گیا تھا کہ 2 لڑکیوں کی جان گئی۔ پولیس نے پیر کے دن بتایا کہ پانچوں لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم سرکاری ہسپتال میں ہوا تھا۔ شیلٹر ہوم میں 34لڑکیوں کی مبینہ عصمت ریزی کی تحقیقات کررہی سی بی آئی نے اتوار کے دن سری کرشنا میڈیکل کالج ہاسپٹل میں کاغذات کی جانچ کی اور پایا کہ شیلٹر ہوم کی 5لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا۔ ہسپتال کے رجسٹر کے بموجب 2لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم 2013میں ‘ 2 کا 2015 میں اور ایک کا 2017 میں ہوا تھا۔ سی بی آئی عہدیدار اب یہ پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پوسٹ مارٹم کے بعد بچیوں کی نعشیں کن کو سونپی گئیں اور آیا اس معاملہ میں کیسس درج ہوئے یا نہیں۔ ضلع پولیس عہدیدار نے بتایا کہ سی بی آئی عہدیداروں کی ایک ٹیم امکان ہے کہ ہسپتال کے بعض ڈاکٹروں سے جلد پوچھ تاچھ کرے گی۔ سی بی آئی نے سابق میں 4 اکتوبر کو ایک شمشان گھاٹ میں انسانی ہڈیاں پائی تھیں۔ اسے کسی نے اس کا سراغ دیا تھا۔ اس نے شبہ کی بنیاد پر شیلٹر ہوم کے احاطہ میں کھدائی بھی کرائی لیکن وہاں کچھ نہیں ملا۔ گذشتہ ماہ شیلٹر ہوم کے ایک ملازم کرشنا رام نے جو اصل ملزم برجیش ٹھاکر کا پریس بھی چلاتا تھا‘ سی بی آئی کو بتایا تھا کہ چند نعشیں تھیلوں میں بھر کر ایک سال قبل دریائے بڑی گنڈک میں بہادی گئی تھیںلیکن سی بی آئی کو دریا سے کچھ بھی نہیں ملا تھا۔ برجیش ٹھاکر کی این جی او سیوا سنکلپ ایوم وکاس سمیتی کے زیراہتمام شیلٹر ہوم میں 42لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان میں 34کی عصمت ریزی کا پتہ چلا ہے۔ یہ جرم ‘ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسس کی 5 ماہ قبل سوشل آڈٹ سے منظرعام پر آیا تھا۔ شیلٹر ہوم کو مہربند کرکے ٹھاکر کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ اس کیس میں سی بی آئی تحقیقات کی نگرانی کررہی ہے۔

جواب چھوڑیں