جموں وکشمیر اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ درست:گورنر ستیہ پال

جموں و کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے اپنے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک نے آج دعویٰ کیا کہ زبردست سودے بازی ہورہی تھی اور متضاد سیاسی نظریات رکھنے والی جماعتوں کے لئے ایک مستحکم حکومت تشکیل دینا ناممکن ہوتا۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے ریاست کے مفاد میں اور اس کے دستور کے مطابق یہ اقدام کیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ وہ مرکز کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں اور کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ انہیں (بی جے پی۔ پیپلز کانفرنس) کو تشکیل حکومت کی دعوت دیتے۔ گورنر نے کہا کہ جو لوگ عدالت سے رجوع ہونا چاہتے ہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ ملک نے یہاں راج بھون میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ گذشتہ 15 تا 20 دن سے مجھے یہ اطلاعات موصول ہورہی تھیں کہ بڑے پیمانہ پر سودے بازی ہورہی ہے۔ ارکان اسمبلی کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور میز کے نیچے سے کئی معاملات ہورہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محبوبہ جی نے مجھے ایک ہفتہ قبل بتایا تھا کہ ان کے ارکان اسمبلی کو این آئی اے کے ذریعہ دھمکی دی جارہی ہے۔ ایک اور پارٹی نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کو بھاری رقومات کا لالچ دیا جارہا ہے۔ 20 دن پہلے سودے بازی شروع ہوئی تھی۔ اگر میں نے کسی بھی جماعت کو ( تشکیل حکومت کا) موقع دیا ہوتا تو اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتیں۔ سیاست کا اقداری نظام تباہ ہوجاتا جیسا کہ دیگر ریاستوں میں ہوا ہے۔ میں اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ متضاد سیاسی نظریات کی حامل جماعتوں کے لئے مستحکم حکومت تشکیل دینا ناممکن ہوتا۔ اگر ہم (ریاست کو) غیرمستحکم حکومت دیتے تو کسی قدر تبدیلی کے ساتھ یہی صورتحال ہوتی۔ اس عمل کے نتیجہ میں ایک موقع پرست حکومت تشکیل پاتی۔ ہم اس حساس ریاست میں کبھی عدم استحکام نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ این سی ‘ پی ڈی پی اور کانگریس آپس میں لڑتے اور اس کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوتیں۔ ملک نے کہا کہ ریاست میں آج جو بھی استحکام ہے وہ مسلح افواج کی سخت محنت کا مرہون منت ہے۔ میرا کوئی شخصی مفاد نہیں ہے اور میرے لئے ریاست کا مفاد اہم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے جموں وکشمیر کے دستور کے مطابق اسمبلی تحلیل کردی۔ میری فہم کے مطابق یہ ایک بہترین اقدام ہے اور میں نے کسی کے ساتھ جانبداری نہیں برتی ہے۔

جواب چھوڑیں