شمالی شام میں مانیٹرنگ ٹاورز کی تنصیب، امریکہ کا اظہار مسرت

امریکہ ترکی اور شامی کردوں کے درمیان کشیدہ صورتحال سے بچاو کے لئے شمالی شام کی سرحد کی نگرانی کرے گا۔ وزیر دفاع جیمز میٹس نے شامی کردوں کو انتہا پسندوں کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حلیف قرار دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مرکزی دفتر پینٹاگان میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے میٹس کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ شامی سرحد کے مختلف حصوں، بالخصوص شمالی سرحد پر، مانیٹرنگ ٹاورز کے قیام کو سراہتا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس پیش رفت کی تحسین اس لئے کر رہا ہے تاکہ کردوں، عربوں پر مشتمل امریکی حمایت یافتہ سیرئین ڈیموکریٹک فورس داعش کے خلاف جنگ سے نہ نکل جائیں اور شام میں انتہا پسند تنظیم کی باقیات کو کچلنے کے لئے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ جیمز میٹس نے بتایا کہ سرحد پر بنائے مانیٹرنگ ٹاورز دن رات دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا مقصد ترکوں کو ان سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ترکی کے ساتھ باقاعدہ دستاویز کے تبادلے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ سیرئین ڈیموکریٹک فورس نے روان ماہ کی گیارہ تاریخ کو شام کے مشرقی علاقوں میں داعش کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں از سر نو شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے شمالی علاقے میں کردوں کے زیر نگین علاقوں پر ترکی کی گولا باری کے بعد دس روز قبل یہ لڑائی روک دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *