محمد بن سلمان کے خلاف یورش ناکامی سے دوچار ہوئی: امریکی ماہر

 سکیورٹی تعلقات کے امور سے متعلق امریکی ماہر جم ہینسن کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف یورش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ امریکی صدر بھرپور طریقے سے سعودی عرب کو سپورٹ کر رہے ہیں جو صحیح فعل ہے۔ ہینسن نے چہارشنبہ کے روز اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ “امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہمارے حلیف سعودی عرب کی پورے زوروں کے ساتھ حمایت کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی قیادت میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف میڈیا کی عمومی مہم ناکام ہو چکی ہے”۔ ہینسن نے باور کرایا کہ “یہ امریکہ کے تزویراتی مفادات کے حوالے سے صحیح تصرف ہے”۔ اس سے قبل ہینسن نے اْن خفیہ معلومات کے اِفشا کیے جانے کو ایک شرم ناک امر قرار دیا جن کو بنیاد بنا کر “واشنگٹن پوسٹ” اخبار اور بعض دیگر ذرائع ابلاغ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے حوالے سے کہانیاں بنا لیں۔ ہینسن کے مطابق “واشنگٹن پوسٹ” وغیرہ کی رپورٹ کوئی حتمی امر نہیں بلکہ اس حوالے سے انتظار کیا جانا چاہیے۔ امریکی ماہر نے کہا کہ سعودی عرب نے اس جرم کے ذمے داران کا تعین کر کے ان کا احتساب شروع کر دیا ہے جو ایک خود مختار ریاست کی جانب سے ایک اچھا قدم ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سعودی عرب کی مخالف ان میڈیا مہموں کا اختتام کر دیا جو 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی صحافی جمال خشوگی کو ہلاک کیے جانے کے بعد شروع کر دی گئی تھیں۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے اپنی لا محدود سپورٹ کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ امریکہ اس بات کا خواہش مند ہے کہ سعودی عرب کو مضبوط شراکت دار بنا کر رکھا جائے۔ ٹرمپ نے سعودی عرب اور خطے میں دیگر شراکت داروں کے ساتھ مفادات پر زور دیا۔ امریکی صدر کے بیان میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سعودی عرب کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ بیان کے مطابق مملکت نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ،،، اور وہ ایران کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے امریکہ کا ایک عظیم حلیف ہے۔

جواب چھوڑیں