ایودھیا قلعہ میں تبدیل‘ 70 ہزار سیکوریٹی جوان تعینات

مندروں کے شہر ایودھیا قلعہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اتوار کو وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) کی دھرم سبھا اور ہفتہ کے دن شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے دورہ کے مدنظر 70 ہزار سے زائد سیکوریٹی جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ حکومت اترپردیش ‘ متنازعہ مقام پر سیکوریٹی اور نظم وضبط برقرار رکھنے سپریم کورٹ کی ہدایت کی پابند ہے۔ ریاست کے سینئر عہدیداروں نے لکھنو میں جمعرات کی رات اجلاس منعقد کیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ حکومت یوپی نے وسیع سیکوریٹی انتظامات کئے ہیں۔ اس نے انسداد دہشت گردی دستے اور زائد فورس بشمول آر اے ایف تعینات کردی ہے۔ ریاست واضح کرچکی ہے کہ متنازعہ مقام کی سمت گروپ کی شکل میں کسی کو بھی جانے نہیں دیا جائے گا۔ ایودھیا میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ۔ سیکوریٹی کی نگرانی کے لئے 2 سینئر آئی پی ایس عہدیدار ایودھیا میں تعینات کئے گئے ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے جمعہ کے دن بتایا کہ پی اے سی کی لگ بھگ 48کمپنیاں اور آر اے ایف کی کئی کمپنیاں ایودھیا پہنچ چکی ہیں۔ وی ایچ پی کا دعویٰ ہے کہ اتوار کو اس کی دھرم سبھا میں ایک لاکھ سے زائد سادھو سنت آئیں گے جبکہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ مہاراشٹرا سے 5 ہزار لوگ آئیں گے۔ شیوسینا کوئی بڑا پروگرام نہیں کرے گی۔ اسی دوران وی ایچ پی نے مسلمانوں کو خطرہ کی افواہیں پھیلانے کے لئے مخالف رام مندر طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ وی ایچ پی ترجمان شرد شرما نے کہا کہ کوئی بھی خوفزدہ نہیں ہے اور 25 نومبر کو ایودھیا میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ ایودھیا میں مسلم فرقہ کسی خوف کے بغیر رہ رہا ہے۔ اتوار کے دن رام بھکت صرف اس لئے ایودھیا آرہے ہیں کہ رام مندر کی جلد تعمیر کی تائید کی جائے۔ دھرم سبھا کے دوران مسلمانوں کو خطرہ کی افواہیں پھیلانا ہندو فرقہ اور رام بھکتوں کے خلاف سازش ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *