تلنگانہ عوام کے خوابوں کوشرمندہ تعبیر کیاجائے گا:سونیاگاندھی

چیرپرسن یو پی اے سونیا گاندھی نے آج کہاہے کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ علحدہ تلنگانہ کا فیصلہ کرنے میں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد بدقسمتی سے یہ ریاست ایسے ہاتھوں میں چلی گئی جنہوں نے صرف اپنے خاندان اور رشتہ داروں کی خوشحالی پر توجہ دی اور تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ سونیا گاندھی جمعہ کو میڑچل میں کانگریس کے عظیم الشان انتخابی جلسہ سے خطاب کررہی تھیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ میں خطاب کرتے ہوئے سونیا نے کہاکہ یہاں آکر اور یہاں کے عوام کو دیکھ کر انہیںایسی خوشی و مسرت ہورہی ہے جیسے ایک ماں کو بہت دن بعد اپنی اولاد کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر آندھرا اور تلنگانہ کے عوام کی خواہشات و جذبات ہمارے سامنے تھے لیکن 4 کروڑ تلنگانہ عوام کے جذبات و احساسات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور راہول گاندھی سے مشاورت کے بعد ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا۔تھا اس کے لئے کانگریس پارٹی کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ سیاسی نقصان اٹھاکرہم نے علحدہ ریاست کے قیام کویقینی بنایا۔ اس کے ساتھ ہمیں آندھراکے عوام کا بھی خیال تھا ۔ چنانچہ اے پی تنظیم جدید بل میں آندھراکی ترقی کے لئے کئی پراجکٹس کومنظوری دی گئی اور ساتھ ہی آندھراپردیش کوخصوصی ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیاگیاتھا۔ وہ آندھرا کے عوام کو یقین دلاناچاہتی ہیں کہ کانگریس پارٹی آندھراکو خصوصی درجہ دینے کے اپنے عہدکی پابند ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ میں غریب عوام کی زندگیوں کودیکھ کر انہیں بہت دکھ ہورہاہے ۔ ٹی آرایس کے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں تلنگانہ کی جس طرح ترقی ہوناتھا وہ نہیں ہوسکی ۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعدآپ نے جو خواب دیکھا تھا وہ ساڑھے چارسال میں کتنا پورا ہوا؟ کسانوں نے زراعت کے لئے پانی کا خواب دیکھا تھا ‘نوجوانوں نے روزگار کا خواب دیکھاتھا حکومت نے کئی وعدے کئے تھے لیکن ایک بھی وعدہ پورا کیا گیا ؟ کسان آج بھی خودکشی پر مجبورہیں۔ کسانوںکو غذا برائے اسکیم سے فائدہ تک نہیں پہنچایا گیا۔ تلنگانہ کے بیروزگارنوجوان مایوس ہوچکے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں دردربھٹک رہے ہیں۔ پہلے جب وہ یہاں آئی تھیں تو خواتین سے ملکر انہیں بہت خوشی ہوئی تھی ۔ یہاں خواتین کی ترقی کی مثال دوسری ریاستوں میں دیجاتی تھی لیکن افسوس کے ٹی آرایس دور حکومت میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ کو مالی امداد بندکردی گئی ۔ دلت اور آدی واسیوں اورکمزوروپسماندہ طبقات کی بہبود کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔ کے سی آر نے اگرجو کچھ کیاہے توصرف اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے لئے کیاہے ۔ آپ لوگوں نے سب کوآزمایاہے جولوگ زبان کے پکے نہیں ہوتے وہ ناقابل بھروسہ ہوتے ہیں۔ کے سی آر نے بھی عوام کے لئے کچھ نہیں کیاہے ۔ اب جبکہ انتخابات کاوقت آگیا ہے ‘ تلنگانہ کے عوام اس حکومت سے اسی وقت چھٹکارا پاسکتے ہیں جب وہ کانگریس کی زیر قیادت عظیم اتحاد کو کامیاب بنائیں ۔صدر کانگریس راہول گاندھی نے اپنی تقریرمیں کہاکہ جس وقت عوام علحدہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد کررہے تھے تب سونیاگاندھی بھی آپ کے ساتھ تھیں ۔ علحدہ تلنگانہ کے لئے عوام نے اپنا خون اورپسینہ بہایا ہے ۔ میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تلنگانہ کے قیام میں سونیاگاندھی کا ہی اہم رول رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ تلنگانہ سے کے سی آر کوبیدخل کرنے کے لئے کانگریس کی زیرقیادت ہم خیال جماعتوں کے ساتھ عظیم اتحاد تشکیل دیاگیا ہے ۔یہ اتحاد ‘کسانوں ‘دلتوں ‘ طلباء ونوجوانوں اور خواتین کے مسائل کو حل کرے گا ۔آپ نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے چیف منسٹر کے سی آر پربھروسہ کیاتھا لیکن وہ ناکام رہے ۔ اب آپ کاخواب عظیم اتحاد کی حکومت پوراکرے گی۔ گذشتہ چارسال کے دوران ایک شخص (کے سی آر) نے صرف اپنے اور اپنے خاندان کوفائدہ پہنچایا ۔ تلنگانہ میں اب جوحکومت بننے جارہی ہے وہ ایک شخص یا ایک خاندان کی نہیں رہے گی بلکہ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرے گی اورایک نیا تلنگانہ وجود میں آئے گا۔ راہول گاندھی نے اس کامیاب جلسہ عام کے لئے عوام کے ساتھ ساتھ عظیم اتحاد کے قائدین سے بھی اظہار تشکرکیا۔ قبل ازیں صدر پردیش کانگریس این اتم کمار ریڈی ‘ پروفیسر کودنڈارام ‘ ایل رمنا ( تلگودیشم )‘سی وینکٹ ریڈی (سی پی آئی ) اور دیگر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے ٹی آرایس حکومت کوسخت تنقید کانشانہ بنایا ۔انقلابی شاعر غدر نے گیت پیش کیا۔ شہ نشین پر ایس جئے پال ریڈی ‘سبی رامی ریڈی ‘ آرسی کنتیا‘وجئے شانتی ‘رینوکاچودھری ‘ محمدعلی شبیر ‘مدھویاشکی گوڑ‘سروے ست نارائنہ ‘ سلیم احمد ‘کے جانا ریڈی ‘بھٹی وکرمارکہ ‘وی ہنمنت رائو اوردیگر قائدین بھی موجودتھے۔ اس موقع پر تلنگانہ کی مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس ‘ ایڈیٹر سیاست زاہدعلی خان ‘ پروفیسر کودنڈارام ‘دلت قائد منداکرشنا مادیگا‘بی سی قائد آرکرشنیا کاسونیاگاندھی سے تعارف کروایا گیا ان قائدین نے تلنگانہ کی تشکیل پر سونیاگاندھی سے اظہار تشکرکیا۔ محمدعلی شبیر نے سابق چیرمین وقف بورڈ وسابق ایم ایل اے سید یوسف علی کا بھی سونیاگاندھی سے تعارف کروایا ۔جنہوںنے چنددن قبل کانگریس میںشمولیت اختیار کی تھی۔ راہول گاندھی نے اس موقع پر یوسف علی کے بشمول کئی ٹی آرایس قائدین ویشویشورریڈی ایم پی کو کھنڈواپہناکر کانگریس میں شامل کیا۔

جواب چھوڑیں