دہلی میں مسلم قبرستان پُر‘ دفنانے کے لئے جگہ نہیں

دہلی اقلیتی کمیشن (ڈی ایم سی) نے خبردار کیا ہے کہ قومی دارالحکومت میں ایک سال بعد مسلم نعشوں کو دفنانے کے لئے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ اس نے قبرستانوں کے لئے اراضی کے الاٹمنٹ اور کچی قبریں جیسے اقدامات چاہے ہیں۔ رپورٹ‘ چیف منسٹر اروند کجریوال نے جمعرات کو جاری کی۔ کمیشن کے ایک جائزہ (اسٹڈی) کے حوالہ سے نشاندہی کی گئی کہ شہر میں ہر سال اوسطاً 13 ہزار میتیں ہوتی ہیں اور سال 2017 تک موجودہ قبرستانوں میں 23,970 میتیں دفنانے کی جگہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال بعد دفنانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ ریکارڈ کے مطابق دہلی کے مختلف حصوں میں 704 مسلم قبرستان ہیں جن میں صرف 131 کارکرد ہیں۔ ان 131 میں 16 قبرستان کورٹ کیس میں پھنسے ہیں جبکہ دیگر 43 پر قبضے ہوچکے ہیں۔ دہلی میں زیادہ تر قبرستان چھوٹے ہیں‘ 10 بیگھہ یا اس سے بھی چھوٹے۔ 46 فیصد قبرستان 5 بیگھہ یا اس سے بھی کم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آبادی میں اضافہ اور دیگر ریاستوں سے لوگوں کی دہلی آمد کے باعث قبرستان بڑھنے ضروری ہیں۔ کمیشن نے ہیومن ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے ذریعہ 2017 میں اسٹڈی (پرابلمس اینڈ اسٹیٹس آف مسلم گریویارڈس اِن دہلی) کرائی تھی۔ اسٹڈی میں کچھ قبریں بنانے اور قبضے برخواست کرکے نئے قبرستان بنانے کی سفارش کی گئی۔ قبرستانوں کے لئے نئی اراضی الاٹ کرنے‘ باؤنڈری وال تعمیر کرنے اور گارڈس تعینات کرنے کی بھی سفارش رپورٹ میں کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں