صحابہ کرام ؓکے کارناموں وقربانیو ں سے نئی نسل کو واقف کروانے کی ضرورت، تعمیر ملت کاجلسہ یوم صحابہ

کل ہند مجلس تعمیرملت کے زیر اہتمام کل شب 69 ویں یوم رحمتہ للعٰلمین ؐ کے ضمن میںکل شب یوم صحابہؓ زیر نگرانی صدر تنظیم جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ چنچل گوڑہ جونیر کالج میدان پر منعقد ہوا‘ جس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے کارناموں اور ن کی قربانیو ں کے واقعات سے روشناس کروایا جاتا رہے تاکہ آگے چل کر وہ ان کی پیروی کرنے کے قابل بن سکیں۔ مہمان مقرر ڈاکٹر محمدشکیل احمد صمدانی پروفیسر شعبہ قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ ہمارے بچے اس بات کو نہیں جانتے کہ ہم 800سال تک سوپر پاور رہے۔600سال تک سائینس‘ جغرافیہ وغیرہ میں آگے رہے۔ انہوں نے حضرت عمر فاروق ؓ‘ کی انتظامی اور اجتہادی معاملات‘ دور اندیشی ‘ فراست اور فتوحات میں ان کے رول پر روشنی ڈالی۔اور کہا کہ ان کے لئے رسول کریم نے دعا مانگی تھی۔ رسول کریم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے لیکن اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔ ایک کانفرنس فلسطین کے بارے میں ہوئی لیکن اس میں ان دو شخصیتوں کاذکر ہی نہیں کیا گیا جن کے دور میں بیت القدس فتح ہوا تھا‘ یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت صلاح الدین ایوبیؒ۔ حضرت عمر ؓ بڑے سکیولر ‘ دور اندیش اورانصاف پسند تھے۔ وہ شوریٰ کے مشوروں سے فیصلے کیا کرتے تھے۔ اگر وہ دس سال اور جیتے تو دنیا سے کفر کا خاتمہ ہوجاتا ۔حضر ت خالد بن ولید ؓ نے زندگی میںکوئی جنگ نہیں ہاری‘ حالت کفر میں بھی نہیں۔ غزوہ احد میں ان کی وجہ سے جنگ کانقشہ بدل گیا۔ آج تک ان سے بڑا جرنل اور سپہ سالار پیدا نہیں ہوا۔ نگران جلسہ سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سامعین نے جلسہ میں جن خیالات اور مشوروں کی سماعت کی ہے وہ ان پر عمل آوری کی کوشش کریں۔ محمد ضیاء الدین نیر نائب صدر کل ہند مجلس تعمیرملت نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے دین کو مکمل کردیا اور نعمتیں پوری کردیںاور اسلام سے وہ راضی ہوگیا۔ انہوں نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان میںمسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ 45انکاؤنٹر ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی مدد بدر و حنین میں ختم نہیں ہوئی۔ مولانا محمد حسام الدین عاملؔ جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ نے بعنوان’’ الفت صحابہ کرام ؓ ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس سے محبت کی جاتی ہے ان ہی کا ساتھ ملے گا۔ افسوس ہے کہ ہم کسی کو رہنمابنانے کے قائل نہیں ہیں۔ ہم صحابہ سے واقف ہی نہیں ہیں تو ہم بچوں کو کیا بتا سکتے ہیں۔آج ضرورت ہے کہ ہم صحابہ ‘ ازواج مطہرات اور بزرگوں کی سیرت سے نئی نسل کو واقف کروائیں۔ صحابہ کی محبت دل میں نہ ہونے کی وجہ سے ہم صحابہ ؓکے جلسوں میں نہیں جاتے۔ رسول کریم ﷺ سے محبت اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک کہ صحابہ سے محبت نہ ہو۔مولانا مفتی محمد نیر آعظم اشرفی نے بعنوان صحابہ کرامؓ اور قرآن مجید‘‘ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام کا تذکرہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ملتا ہے۔ اللہ جسے مقام عطا کرتا ہے وہ علم ازلی کی بنیاد پر عطا کرتا ہے۔ انہوںنے حضرت صہیب رومی ؓ کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ جو اللہ کی نشانیوںکی تعظیم کرتا ہے ان کے دلوں میںتقویٰ ہوتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو بھی رسول ﷺ کے ساتھ ہیں ان کو رسوائی سے بچائے گا۔ جب اس کتاب سے صحابہ کی عظمت ثابت ہے تو پھر کسی کو حق نہیں کہ وہ تنقید کے قلم اٹھائے۔ مولانا حبیب عبدالرحمن الحامد ’ نے ’ایک مہاجرؓ ایک انصاریؓ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت مصعیب بن عمیر اور حضرت ابو ایوب انصاری کے واقعات بیان کئے۔ معتمد استقبالیہ ڈاکٹر یوسف حامدی نے خیر مقدم کیا اور ان ہی کے شکریہ پر یہ جلسہ اختتام کو پہنچا ۔خواتین کے لئے پردے کا معقول انتظام کیا گیا تھا۔ حافظ وقاری محمدافضل کی قرأت کلام پاک سے اس جلسہ کا آغاز ہوا‘ جناب تشکیل رزاقی اور ڈاکٹر فاروق شکیل نے نعت شریف اور جناب رضی الدین راشد نے منقبت پیش کی۔ معتمد عمومی جناب محمد وہاج الدین صدیقی نے صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کی قدرو منزلت پر روشنی ڈالی اور ایک خاتون کا واقعہ بیان کیا جس کے باپ ‘ بھائی اور لڑکے جنگ میںشہید ہوگئے تھے لیکن اس کو ان سے زیادہ فکر رسول اللہ ﷺ کی خیریت معلوم کرنے سے تھی۔ یوم رحمتہ للعٰلمینؐ کے ضمن میں منعقدہ تعلیمی وانعامی مقابلہ جات کے انچارج عمر احمد شفیق نے مقابلوں کی رپورٹ پیش کی۔ جس کے بعد تعلیمی مقابلوں کے انعامات کی تقسیم عمل میں آئی ۔اس موقعہ پر نائب صدر استقبالیہ محمد عظیم الدین قریشی ‘ نائب صدر تنظیم ڈاکٹر محمد مشتاق علی ‘ حسینی اور اسلامک اسکالر ڈاکٹر محمد متین الدین قادری رکن تلنگانہ پبلک سروس کمیشن ‘ شکیل حسینی اور جناب محمد سیف الرحیم قریشی بھی شہ نشین پر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں