مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کیخلاف کاروائی : چیف الیکشن کمشنر

چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا اوم پرکاش راوت نے آج کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے متعلق کئی شکایتیں وصول ہوئی ہیں ۔ یہ شکایتیں، سیاسی جماعتوں کی جانب سے داخل کی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مذہب ،ذات کی بنیاد پر میٹنگیں منعقد کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے اور سیاسی حریف کے خلاف احمقانہ ریمارکس کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ انہوںنے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام شکایتوں کی انکوائری کرنے اور اس تعلق سے رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ موصولہ شکایتوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ووٹرلسٹ میں خامیوں ، ووٹرسلپس کی تقسیم، ماوسٹوں سے متاثرہ مقامات ، پیسہ اور شراب کی غیر مجاز منتقلی کیلئے ایمبولینس کا استعمال‘ سیاسی جماعتوں کی ملکیت والے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا بیجا استعمال، فون ٹیاپنگ ، شی ٹیموں کی جانب سے تعلیمی اداروں کا دورہ اور سیاسی جماعتوں کے حق میں انتخابی مہم چلانے سے متعلق شکایتیں پائی گئی ہیں۔ امیدواروں کی جانب سے بانڈس تحریر کرنے اور ان کی رائے دہندوں میں تقسیم، عہدیداروں کی جانب سے جی اوز کی اجرائی ، پیڈ نیوز، حکومت اے پی کی جانب سے اشتہارات کی اجرائی جیسے شکایتیں بھی وصول ہوئی ہیں۔ ان تمام شکایتوں کی انکوائری کرنے کی الیکن کمیشن کے عہدیداروں کو ہدایت دی جاچکی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی مشین نہیں ہے جو تحریف و تبدیلی سے پاک ہو۔ وی وی پی اے ٹی مشین ، محفوظ ہے اس میں تحریف ، ردوبدل مشکل ہے ۔ ان تمام مشینوں کو انسان ہی استعمال کرتا ہے ۔ او پی راوت نے کہا کہ وی وی پی اے ٹی مشین کی خرابی کی شکایت پر متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو یہ اختیار رہے گا کہ ضرورت پڑنے پر ( مشین کی عدم کارکردگی ) وہ، مشین سے باہر آنے والے سلپس کی گنتی کا حکم دے سکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ تلنگانہ میں119 اسمبلی حلقوں میں32,796 پولنگ بوتھس، قائم کئے گئے ۔ ان تمام بوتھس پر وی وی پی اے ٹی مشینیں استعمال کی جائیں گی ۔ تلنگانہ میں10,038 سرویس ووٹرس ہیں جو پوسٹل بیالٹ استعمال کرنے کے مجاز رہیں گے ۔ راوت نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آزادانہ ، منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام تر اقدامات کررہا ہے۔ کمیشن ، پیسہ اور شراب کی غیر مجاز منتقلی کو روکنے کیلئے اقدامات کررہا ہے۔انہوںنے کہا کہ کوئی بوگس ووٹ نہیں ہے ۔ راوت نے مزید کہا کہ اپیک کارڈز کو آدھار سے مربوط کرنے کا عمل جاری ہے ۔ اب تک30 کروڑ رووٹرس کو آدھار سے مربوط کیا جاچکا ہے مگر سپریم کورٹ کے احکام پر اس عمل کو عارضی طور پر موخر کردیا گیا ہے ۔ مگر بعد میں ووٹر آئی ڈی کارڈ کو آدھار سے مربوط کیا جائے گا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ دو روزہ دورہ کے دوران الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے ریٹرننگ آفیسرس، ضلع ایس پیز، ڈی جی پی اور دیگر عہدیداروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور انتخابات کی تیاریوں اور سیکوریٹی انتظامات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں اور سیکوریٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ راوت نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات آزادانہ منصفانہ اور پرامن رہیں گے۔

جواب چھوڑیں