مودی اور بی جے پی کو فرقہ پرستی کے جنون کا مرض : کے سی آر

تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی جارہی ہے ویسے، سیاسی حریفوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں میں تیزی آرہی ہے ۔ تلنگانہ کے کارگذار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو فرقہ پرستی کے جنون کی بیماری لاحق ہے ۔ مودی اور بی جے پی نے فرقہ پرستی کے جنون کی بیماری کی وجہ سے تلنگانہ میں تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کے ریزرویشن میں اضافہ کو روکے رکھا ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزکی بی جے پی حکومت نے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ کو برفدان کی نذر کردیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں اور ایس ٹی کو تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کرتے ہوئے توثیق کیلئے مرکز کو روانہ کیا تھا مگر بی جے پی کی حکومت نے اس بل کو لیت ولعل میں ڈالدیا ہے اور مسلمانوں کو 12اور ایس ٹی طبقہ کو تحفظات میں10فیصد اضافہ کی فراہمی میں مودی حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی ایک بیماری میں مبتلا ہیں جسے فرقہ پرستی کا جنون کہا جاتا ہے۔ فرقہ پرستی کے جنون کے مرض کے سبب مرکزی حکومت، مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ بل کو روکے رکھی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مودی اور بی جے پی ، ہر مسئلہ کو ہندو ۔ مسلم کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ انہیں اس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ فرقہ پرستی کے جنون کے مرض کے سبب وہ، ہندو اور مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس لئے وہ ، تحفظات میں اضافہ کا بل روکے رکھے ہوئے ہیں۔ نرسم پیٹ میں آج انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے یہ بات کہی ۔ محبوب آباد میں بھی علیحدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر فرقہ پرستی کے جنون کی بیماری میں مبتلا ہونے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو مذہبی دیوانگی کا مرض لاحق ہے ۔ یہ حکومت، اقلیتوں کا بمقابلہ ہندوؤں سے کرتی ہے اس لئے مرکزی حکومت تحفظات میں اضافہ کی بل کی منظوری نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں ریاست کی تمام17 لوک سبھا حلقوں سے منتخب ٹی آر ایس امیدوار ہی مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے مطالبہ کو منظور کرائیں گے ۔ اگر ہم جیت جاتے ہیں تب ہی ہم ، مرکز کو جھکاسکتے ہیں ۔ ہم ایس ٹی اور مسلم ریزرویشن میں اضافہ کے مطالبہ کو منوا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس، ریاستوں پر مکمل اجارہ داری چاہتے ہیں۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ مرکزمیں غیر بی جے پی اور غیر کانگریس محاذ برسر اقتدار آئے گا۔ نمائندہ منصف سوریا پیٹ کے بموجب ٹی آر ایس سربراہ، کے چندر شیکھر راؤ نے آج سوریا پیٹ میں مارکٹ گراونڈ پر منعقدہ بھاری انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو تلنگانہ کے غداروں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ غداروں کی ٹولی، چور دروازہ سے تلنگانہ کے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کررہی ہے تاہم ریاست کے باشعور عوام، ان غداروں کی سازش کو ہر گز کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ اگر عوام، گھر کی پارٹی ٹی آر ایس کو چھوڑ کر تلنگانہ مخالف جماعتوں کو ووٹ دیں گے تو شہیدان تلنگانہ کی آتما کو شانتی نہیں ملے گی ۔عوام کو سوچ سمجھ کر ، حق رائے دہی سے استفادہ کرنا ہوگا ۔ ریاست کی مزید تیز رفتارترقی اور عوام کی بہبود کیلئے ٹی آر ایس کو دوبارہ برسر اقتدار لانا ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ اس جلسہ عام میں ہزاروں افراد کی شرکت سے اس بات کا اندازہ لگایا جاناچا ہئے کہ ٹی آر ایس امیدوار جگدیش ریڈی کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرست طاقتیں، ٹی ڈی پی سے اتحاد کرتے ہوئے ریاست میں ماقبل انتخابات مہا کوٹمی تشکیل دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ عوام کو ان طاقتوں کے جھانسہ میں نہیں آنا چاہئے ۔ مہا کوٹمی برسراقتدار آنے پر تلنگانہ ، ایک بار پھر پسماندگی کا شکار ہوجائے گا۔ انہوںنے حکومت کی فلاحی اسکیمات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کلیان لکشمی، شادی مبارک، رعیتو بیمہ، مشن بھاگیرتا، مشن کاکتیہ جیسے پروگراموں کی اقوام متحدہ میں بھی ستائش کی گئی ہے اور ان اسکیمات سے عوام بھر پور مستفید ہورہے ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ نے سوریا پیٹ کے عوام سے وعدہ کیا کہ اس حلقہ سے جگدیش ریڈی کی کامیابی اور ریاست میں ٹی آر ایس کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد وہ سوریا پیٹ میں آئی ٹی پارک قائم کریں گے ۔ مقامی بلدیہ کو کارپوریشن کا موقف دیا جائے گا ۔ اور حلقہ کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ انہوںنے عظیم اتحاد کے جھانسہ میں آئے بغیر ٹی آر ایس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

جواب چھوڑیں