ٹرمپ‘ چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ارجنٹائن میں G-20سربراہ اجلاس کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ سے “ملاقات” کے لیے تیار ہیں۔ مذکورہ اجلاس 30 نومبر اور یکم دسمبر کو بیونس آئرس میں منعقد ہو گا۔ امریکی صدر نے افغانستان کا دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ جمعرات کے روز فلوریڈا میں اخباری بیان میں امریکی صدر نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا۔ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی جنگ نے عالمی معیشت کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ نے چین کی سرزنش کے طور پر جولائی 2018ء سے چین سے درآمد کی جانے والی سالانہ 250 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر کسٹم محصولات عائد کر دیے۔ اس کے جواب میں چین نے 110 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر مماثل ٹیکس لگا دیے۔ واشنگٹن نے جنوری 2019ء تک تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں چین پر پابندیوں کو سخت کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکی صدر نے باور کرایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کا “شان دار تعلق” ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “میں انہیں بہت پسند کرتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ وہ بھی مجھے پسند کرتے ہیں”۔ ٹرمپ نے جمعرات کے روز عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنا افغانستان کا پہلا دورہ کر سکتے ہیں جہاں امریکی فوج کئی برسوں سے موجود ہے۔ افغانستان کے دورے کا ارادہ رکھنے سے متعلق ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ “وہ مناسب وقت پر بہت اہم امور انجام دیں گے”۔ اس حوالے سے ٹرمپ نے مزید وضاحت نہیں کی۔ امریکہ نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد 7 اکتوبر کو افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ اس جنگ کے آغاز کے 17 برس بعد اس وقت 14 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق افغانستان میں امن کے حوالے سے اگر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو یہ بہت اچھا ہو گا اور انہیں اس کی بہت خوشی ہو گی۔ البتہ ٹرمپ نے یہ باور نہیں کرایا کہ آیا امن مذاکرات براہ راست امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہو رہے ہیں۔ طالبان نے حالیہ مہینوں میں قطر میں امریکی عہدے داران کے ساتھ تین اجلاسوں کے انعقاد کی تصدیق کی ہے۔ تاہم امریکی سفارتی ذرائع نے براہ راست بات چیت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ افغانستان کے لیے امریکا کے ایلچی زلمئے خلیل زادہ نے خطے میں اپنے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ اس امر کی “محتاط امید” رکھتے ہیں کہ 20 اپریل 2019ء کو افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل افغان فریقوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے گا۔

جواب چھوڑیں