کراچی میں چینی قونصل خانہ پر دہشت گرد حملہ‘ 7 ہلاک

بھاری اسلحہ سے لیس 3 خودکش بمباروں نے جمعہ کے دن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چین کے قونصل خانہ پر حملہ کردیا۔ 4 افراد بشمول 2 پولیس ملازمین جاں بحق ہوگئے۔ تینوں خودکش بمباروں کو سیکوریٹی فورسس نے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ سیکوریٹی فورسس نے ہائی سیکوریٹی زون میں دلیرانہ حملہ ناکام کردیا۔ حکام نے یہ بات بتائی۔ حملہ کی ذمہ داری ممنوعہ بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے) نے لی ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ سرزمین پر چین کی فوج کے توسیع پسندانہ عزائم کو برداشت نہیں کرے گی۔ قونصل خانہ کراچی کے پاش علاقہ کلفٹن میں واقع ہے۔ حملہ صبح میں ہوا۔ 3 مشتبہ خودکش بمباروں کو قونصل خانہ میں داخل ہونے سے قبل ڈھیر کردیا گیا۔ سیکوریٹی فورسس نے کامیابی کے ساتھ حملہ ناکام کیا۔ کراچی پولیس کے سربراہ عامر شیخ نے یہ بات بتائی۔ 9ہتھ گولے ‘ کلاشنکوف کارتوس‘ میگزین اور دھماکو اشیا دہشت گردوں کے قبضہ سے برآمد ہوئیں۔ جیو نیوز نے پولیس عہدیداروں کے حوالہ سے یہ بات بتائی۔ کھانے پینے کی اشیا اور دوائیں بھی برآمد ہوئیں۔ جناح ہسپتال کی اکزیکٹیو ڈائرکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ہمارے دواخانہ میں 2 پولیس ملازمین کی نعشیں لائی گئیں۔ ایک زخمی چینی سیکوریٹی گارڈ بھی لایا گیا جس کا علاج جاری ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2 شہری (باپ بیٹا) بھی جاں بحق ہوئے۔ حکومت سندھ اور پاکستانی فوج نے توثیق کی ہے کہ 3 دہشت گرد مارے گئے۔ کڑے پہرہ والے ای اسٹریٹ علاقہ میں جو ریڈ زون سمجھا جاتا ہے‘ کئی مہنگے ریستوراں ‘ سفارتی مشن اور اسکول واقع ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدرنشین بلاول بھٹو زرداری کا بلاول ہاؤز بھی اسی علاقہ میں واقع ہے۔ اسکولوں اور ہوٹلوں کو فوری بند کردیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9:30 بجے فائرنگ اور دھماکے سنے۔ عامر شیخ نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پہلے قونصل خانہ کے باہر چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ انہوں نے یہاں ایک ہتھ گولہ پھینکا۔ حملہ آوروں نے اپنی کار قونصل خانہ سے کچھ دور پارک کی تھی۔ دفاعی تجزیہ نگار و سیکوریٹی کنٹراکٹر اکرام سہگل نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے پولیس ملازمین کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ قونصل خانہ پر اکرام سہگل کی کمپنی کے گارڈس ہی تعینات ہیں۔ پولیس ملازمین اور شہریوں کے جاں بحق ہونے کے بعد حملہ آور قونصل خانہ کی گیٹ کی طرف بڑھے تاہم گارڈس نے قونصل خانہ آئے ہوئے شہریوں کو عمارت کے اندر پہنچادیا اور گیٹ بند کردی۔ نیم فوجی پاکستان رینجرس فوری پہنچ گئے اور انہوں نے حملہ آوروں سے مقابلہ شروع کردیا۔ عامر شیخ کے بموجب تمام چینی عملہ محفوظ و مامون ہے۔ علیحدگی پسند گروپ بی ایل اے نے حملہ آوروں کی تصاویر جاری کیں اور ٹویٹ کیا کہ کراچی : بی ایل اے کے فدائن نے کراچی میں چینی ایمبسی پر حملہ کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد متعلقہ ایجنسیوں سے ربط میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے حملہ کی مذمت ٹویٹر پر کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں چینی قونصل خانہ اور اورکزئی قبائلی علاقہ میں دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ بہادر سیکوریٹی/ پولیس جوانوں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے دہشت گردوں کو چینی قونصل خانہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی قونصل خانہ پر ناکام حملہ میرے دورہ چین میں چین کے ساتھ طے پائے بے نظیر تجارتی معاہدوں کا واضح ردعمل ہے۔ حملہ کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا اور سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ دہشت گرد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ نے چینی قونصل جنرل سے فون پر بات کی اور انہیں تیقن دیا کہ صورتحال پر قابو پالیا جائے گا۔ گورنر سند ھ عمران اسمٰعیل نے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس سے حملہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ نے اپنے قونصل خانہ پر حملہ کی سخت مذمت کی اور اپنے سکھ دکھ کے ساتھی پاکستان سے کہا کہ وہ چینی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے عملی اقدامات کرے۔ چین کے بیشتر شہری 60 بلین امریکی ڈالر کے چائنا۔ پاکستان اکنامک کاریڈار (سی پیک) سے جڑے پراجکٹس میں کام کرتے ہیں۔ سینکڑوں چینی شہری پاکستان بالخصوص کراچی اور گڑبڑ زدہ صوبہ بلوچستان میں سی پیک پراجکٹس پر کام کررہے ہیں۔ چینی شہری‘ کراچی کو عام طورپر محفوظ شہر سمجھتے ہیں۔ فروری میں ایک سینئر چینی شپنگ اکزیکٹیو کو کراچی کے کلفٹن علاقہ کے زمزمہ پارک کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے اس کی کار میں گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ سندھ پولیس کے سربراہ کلیم امام نے کہا کہ چینی شہریوں کے لئے سیکوریٹی بڑھادی گئی ہے۔ دن رات سیکوریٹی کی فراہمی کے لئے جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ مارچ 2016 کے بعد سے آج کا حملہ پہلا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ مارچ 2016 میں 45 اسماعیلی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کا تجارتی مرکز کراچی پرامن رہا ہے۔ آج کے حملہ نے حکومت اور سیکوریٹی فورسس کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ چینی قونصل خانہ شہر کے گنجان آباد علاقہ میں واقع ہے۔

جواب چھوڑیں