اسرائیل‘ کینسر کا پھوڑا۔ امریکہ کے سامنے جھکنا‘ غداری: صدر ایران علامہ حسن روحانی

صدر ایران حسن روحانی نے ہفتہ کے دن اسرائیل کو کینسر کا ٹیومر(سرطان کا پھوڑا) قراردیا جسے مغربی ممالک نے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے قائم کیا۔ ایرانی رہنما اکثر اسرائیل کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتے رہتے ہیں لیکن نسبتاً اعتدال پسند علامہ روحانی نے ایسی زبان شایدہی کبھی پہلے استعمال کی ہو۔ ہفتہ کے دن عالمی اتحاد سالانہ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کا ایک برا نتیجہ خطہ میں کینسر کے ٹیومر کا قیام رہا۔ انہوں نے اسرائیل کو مغربی ممالک کی قائم کردہ فرضی مملکت قراردیا۔ ایران‘ حزب اللہ اور حماس جیسے عسکریت پسند گروپس کی تائید کرتا ہے جنہوں نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا عہد کررکھا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر حملہ کی دھمکی کبھی نہیں دی لیکن حملہ ہونے کی صورت میں جوابی کارروائی کا عہد ضرور کیا ہے۔ اسرائیل‘ ایران کو اپنی بقا کے لئے خطرہ مانتا ہے۔ حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ علاقائی مسلم ممالک سے تعلقات‘ اسرائیل کے تحفظ کے لئے استوار کرتا ہے۔ وہ ایران کے علاقائی حریف سعودی عرب اور مملکت کے سنی عرب حلیفوں کا بظاہر حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے دباؤ کے آگے جھکنا‘ غداری کے مترادف ہے۔ ایران‘ دہشت گردی اور عالمی طاقتوں سے سعودی عرب کو بچانے کے لئے تیار ہے۔ ہم آپ کو اپنا بھائی مانتے ہیں۔ ہم مکہ اور مدینہ کے لوگوں کو اپنا بھائی مانتے ہیں۔ سعودی عرب نے لگ بھگ 3 برس قبل ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے تھے کیونکہ مملکت میں ایک شیعہ عالم دین کو سزائے موت کے خلاف ایران میں سعودی سفارتی مشن پر احتجاجیوں نے حملہ کردیا تھا۔ شام اور یمن میں یہ دونوں ممالک علیحدہ گروپس کی تائید کرتے ہیں۔ اے پی کے بموجب ایرانی صدر حسن روحانی نے ہفتہ کے دن دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ امریکہ کے خلاف متحد ہوجائیں۔ انہوں نے تیقن دیا کہ سعودی ہمارے بھائی ہیں جنہیں تہران سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ علامہ روحانی نے تہران میں اسلامی اتحاد کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ آج مشرق وسطیٰ غلام بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کا پرتپاک خیرمقدم کرنے کے بجائے مسلم حکومتوں کو امریکہ اور خطہ کے کینسر ٹیومر اسرائیل کے خلاف متحد ہوجانا چاہئے۔ علامہ روحانی نے شیعہ ایران کے سنی حریف سعودی عرب سے کہا کہ وہ بے عزتی والی امریکی امداد پر اپنا انحصار ختم کردے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی اور سوپر پاورس سے سعودی عوام کے مفادات کا دفاع اپنی پوری قوت سے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اس کے لئے 450 بلین امریکی ڈالر نہیں مانگیں گے اور ہم آپ کی بے عزتی بھی نہیں کریں گے۔ ریاض نے جنوری 2016 میں تہران سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے۔ اُس وقت مظاہرین نے ایران میں اس کے سفارتی مشن پر حملہ کردیا تھا ۔سعودی عرب کا ایران پر الزام ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں شیعہ لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔ شام اور یمن کی خانہ جنگی میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔

جواب چھوڑیں