امرتسر گرینیڈ حملہ کیس کا اصل ملزم گرفتار

پنجاب پولیس نے ہفتہ کے دن دعویٰ کیا کہ نرنکاری ست سنگ بھون پر گرینیڈ حملہ کا اصل ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پنجاب کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سریش اروڑہ نے میڈیا کو بتایا کہ اصل ملزم اوتار سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزم کے قبضہ سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ اوتار سنگھ ہی وہ شخص تھا جس نے نرنکاریوں کے اجتماع پر پاکستانی ساختہ ہتھ گولہ پھینکا تھا۔ ڈی جی پی نے کہا کہ اوتار کے پاکستان میں جاوید نامی ایک شخص اور اٹلی میں خالصتان حامی پرمجیت سنگھ بابا سے روابط ہیں۔ 18 نومبر کو امرتسر کے راجہ سانسی علاقہ میں ست سنگھ بھون پر گرینیڈ حملہ میں 3 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ چیف منسٹر پنجاب کپتان امریندر سنگھ نے اسے دہشت گرد حملہ قراردیا تھا ۔حملہ میں اوتار کے ساتھی بکرم جیت سنگھ کو پنجاب پولیس چہارشنبہ کو گرفتار کرچکی ہے۔ اسے اجنالہ کی عدالت نے 5 دن کی پولیس تحویل میں دے دیا۔ بتایاجاتا ہے کہ بکرم جیت ‘ نرنکاری بھون کی گیٹ پر تعینات لوگوں پر بندوق تان کر کھڑا رہا جبکہ اوتار سنگھ نے ہتھ گولہ اندرپھینکا۔ چیف منسٹر نے پاکستانی آئی ایس آئی اور خالصتان لبریشن فورس کو حملہ کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا تھا کہ جو گرینیڈ استعمال ہوا وہ پاکستانی ساختہ ہے۔ امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ حملہ دہشت گرد واقعہ ہے ۔ اس کا کسی مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ بکرم جیت سنگھ کے خاندان نے پولیس کے دعویٰ سے اختلاف کیا ہے کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ سکھوں کا نرنکاری فرقہ ہردیو سنگھ نے قائم کیا تھا۔ ملک اور بیرون ملک اس کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کینیڈا میں سڑک حادثہ میں ہردیو سنگھ اور ان کے داماد کی موت کے بعد اب نرنکاریوں کے تمام امور کی ذمہ داری ہردیو سنگھ کی 33 سالہ لڑکی پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *