تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی 30 روز کیلئے نظر بند

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی سربراہ خادم حسین رضوی کو 30 روز تک نظر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جبکہ ملک بھر میں کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے خادم حسین رضوی کو 30 روز تک نظر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹی ایل پی کے سربراہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا تھا جس کی تصدیق ان کے اہلِ خانہ نے بھی کی تھی۔خادم حسین رضوی کے ساتھ ساتھ ٹی ایل پی کے کارکنان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پولیس نے سیکڑوں کی تعداد میں کارکنان کو گرفتار کرلیا۔پولیس ذرائع کے مطابق اب تک مجموعی طور پر ٹی ایل پی کے 490 کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں راولپنڈی سے 158، کراچی سے 154، اسلام آباد سے 100، جہلم سے 55، اٹک سے 18 اور چکوال سے 5 افراد شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن ابھی بھی جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے گرفتار کیے جانے والے ٹی ایل پی کے 100 کارکنان کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ مزید گرفتار کارکنان کو کچھ دیر بعد جیل منتقل کیا جائے گا۔تحریک لبیک پاکستان کے زیر حراست کارکنوں کو 2، 2 ہفتوں تک تین ایم پی او کے تحت نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم ڈان نیوز کی جانب سے رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی عمر جہانگیر نے اس حوالے سے موقف دینے سے انکار کردیا۔کراچی میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ قانون کا ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ایس ایس پی ایسٹ نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیکیورٹی پر مامور جوانوں کو بریفنگ دی اور انہیں صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل بھی بتایا۔اس دوران کا کہنا تھا کہ پالیسی واضح ہے کہ کسی کو بھی روڈ بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایس ایس پی ایسٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز قبل پولیس اور رینجرز پر فائرنگ کی گئی اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پتھراوؤ کیا گیا جو ناقابل برداشت ہے۔

جواب چھوڑیں