سپریم کورٹ کے فیصلہ میں تاخیر ہو تو آرڈیننس ممکن۔رام مندر مسئلہ حل کرنے کے 3 طریقے: کلراج مشرا

سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر قائد کلراج مشرا نے ہفتہ کے دن کہا کہ رام مندر مسئلہ پر اتفاق ِ رائے نہ ہو اور سپریم کورٹ کے فیصلہ میں تاخیر ہو تو بی جے پی حکومت پارلیمنٹ میں آرڈیننس لاسکتی ہے۔ انہوں نے لکھنو میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بی جے پی کو ایودھیا میں وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) کی دھرم سبھا کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ دھرم سبھا میں جو بھی تجویز آئے گی وہ وی ایچ پی کی اپنی رائے ہوگی۔ انہوں نے منتظمین سے کہا کہ وہ امن برقرار رکھیں۔ کلراج مشرا نے زور دے کر کہا کہ رام مندر مسئلہ 3 طریقوں سے حل ہوسکتا ہے۔ ایک طریقہ باہمی رضامندی‘ دوسرا طریقہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور تیسرا اور آخری طریقہ آرڈیننس ہے۔ وی ایچ پی نے کل ایودھیا میں بہت بڑی مذہبی کانفرنس بلائی ہے تاکہ رام مندر کی جلد تعمیر پر زور دیا جائے۔ کانفرنس کا مقصد مرکز کی بی جے پی حکومت پر آرڈیننس لانے کے لئے دباؤ بڑھانا ہے۔ وشوا ہندو پریشد کی اس کانفرنس کو آر ایس ایس‘ بجرنگ دل اور شیوسینا کی تائید حاصل ہے۔ لوک سبھا الیکشن سے قبل رام مندر کا بی جے پی اور شیوسینا جیسی بڑی جماعتوں کے لئے بڑا انتخابی نعرہ بننا طے ہے جبکہ اپوزیشن زور دے رہی ہے کہ عدالت کے فیصلہ کا انتظار کیا جائے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اس مسئلہ پر خاموش ہے جبکہ اس کے کئی ریاستی قائدین ‘ عوام کی تائید حاصل کرنے آرڈیننس پر زور دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں