’’مجھ سے مقابلہ کی طاقت نہیں، ماں کو سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے‘‘

وزیر اعظم نریندر مودي نے آج کانگریس لیڈر راج ببر کی جانب سے ان کی ماں ھیرابین مودی پر غیر شائستہ تبصرہ پر جم کر برستے ہوئے کہا کہ کانگریس ان سے مقابلہ نہیں کر سکتی،لہذا بیکار کے بیانات کے ذریعے ان کی ماں کو بدنام کرتے ہوئے سیاست میں گھسیٹ رہی ہے ۔ مودی نے آج مدھیہ پردیش کے چھتر پور میں ملھرا سے بی جے پی امیدوار اورریاستی حکومت کی وزیر للتا یادو سمیت جتارا، مھاراج پور، پنا، چھتر پور، بجاور، ہٹا، راجگر، پرتھوي پور، چانڈلہ اور کھرگاپور کے امیدواروں کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب کسی کا غرور عروج پر ہو اور اس کے پاس مسئلہ نہ ہو، تب ہی وہ کسی کی ماں کو برا بھلا کہنے تک پہنچ سکتا ہے ۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جس ماں کو سیاست کا‘س’ بھی نہیں آتا، انہیں کانگریس سیاست میں گھسیٹ کر لے آئی۔ مودی نے کانگریس کو چیلنج کرنے کے لہجے میں کہا کہ اپوزیشن پارٹی کے پاس ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ، تو وہ اس قسم کا برتاؤ کر رہی ہے ۔ انہوں نے وہاں موجود خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو معقول جواب دیں، تاکہ وہ آئندہ ماؤں کو درمیان میں نہ گھسیٹ پائیں۔کانگریس لیڈر اور پارٹی کی اترپردیش یونٹ کے صدر راج ببر نے دو دن پہلے اندور میں روپے کی گرتی قیمتوں کے تناظر میں مودی کی والدہ ہیرابین مودی کے تناظر میں ایک غیر شائستہ تبصرہ کیا تھا۔ بی جے پی نے اس بیان کے آنے کے بعد زبردست احتجاج کیا تھا۔پی ٹی آئی کے بموجب یہاں ایک ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے نریندر مودی نے بظاہر یوپی اے کی صدرنشین سونیا گاندھی پر تنقید کی اور بتایا کہ ملک 125 کروڑ عوام ان کی حکومت (مودی حکومت) کے ہائی کمان ہیں ، جب کہ اس پر کوئی میڈم ریموٹ کنٹرول نہیں کرتی ہیں۔ راج ببر کے ریمارکس پر کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب کسی بھی فرد کے سامنے مسائل کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے نہیں ہوتا ہے تو وہ کسی دوسرے کی ماں کے خلاف بدکلامی کرتا ہے۔ جمعرات کو اندور میں کانگریسی قائد نے امریکی ڈالر کی قیمت میں گراوٹ کا تقابل وزیر اعظم نریندر مودی کی ماں کی عمر سے کیا تھا ، جس کے نتیجہ میں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ مودی نے گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میڈم کی حکومت کے دور میں دولت مندوں کے لیے بینکوں کی تجوریاں خالی ہوگئی تھیں ، تاہم ہماری حکومت نے ضرورت مند نوجوانوں کے لیے بینکوں کے دروازوں کو کھول دیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر شیو راج سنگھ چوہان کو ماما کہنے پر کانگریس کو کیوں تشویش ہورہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کو شیو راج کے ماما کہلانے پر تشویش ہے۔ انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ وہ قطروچی ماما اور وارن اینڈرسن (یونین کاربائیڈ کے سابق صدرنشین) ماما کو کیوں یاد نہیں کرتی ہے ۔ انہوں نے بوفورس اسکینڈل اور 1984 بھوپال گیس المیہ کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 15 سال کانگریس کو مدھیہ پردیش میں اقتدار سے نکال باہر کیا گیا تھا ، کیوںکہ وہ پھوٹ پیدا کرنے والی سیاست میں سرگرم تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *