ملک کی کوئی طاقت 12فیصد مسلم تحفظات فراہم نہیں کرسکتی :ریونت ریڈی

پردیش کانگریس کے کارگذارصدر اے ریونت ریڈی نے آج کہاکہ ملک میں کوئی طاقت مسلمانوں کو12فیصد تحفظات فراہم نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی دستورکے مغائر ہے ۔ کانگریس نے ریاست کے مسلمانوں کو 5فیصد تحفظات فراہم کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ 5فیصد تحفظات کی فراہمی میںناکام رہی کیونکہ قانونی پیچیدگیوں کے سبب ایسا نہیں ہواتاہم 5کے بجائے 4فیصد تحفظات فراہم کئے گئے جو آج تک جاری ہیں۔ جملہ تحفظات کا تناسب 50فیصد سے زائد نہیںہوناچاہے۔ کارگذارچیف منسٹر وٹی آرایس سربراہ کے چندر شیکھررائو کوشدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت سے مسلم تحفظات میں اضافہ کی نمائندگی کرنا بے فضول اورغیر واجبی ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کی منظوری قانونی طورپرممکن نہیں ہے ۔ انہوںنے سوال کیاکہ کے چندر شیکھررائو نے 12فیصد مسلم تحفظات مسئلہ کی یکسوئی کے لئے نریندر مودی کا گریبان کیوں نہیں تھاماجبکہ کے سی آر نے وزیر اعظم سے کامیاب نمائندگی کرتے ہوئے زونل سسٹم کی منظوری حاصل کی ہے ۔ پریس کلب بشیر باغ میں ہفتہ کو میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اے ریونت ریڈی نے یہ بات کہی۔ اس پروگرام کااہتمام تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے کیا۔ انہوںنے کہاکہ کانگریس پارٹی ‘کے چندر شیکھررائو کوفارم ہاوز میں آرام کرنے کی بھی اجازت نہیں دے گی جیسا کہ انہوں نے ( کے سی آر)کہاکہ اگرعوام ٹی آرایس کو دوبارہ خط اعتماد نہیں دیں گے تووہ فارم ہاوز میں آرام کریں گے جبکہ ان کے فرزند وکارگذار وزیر کے ٹی آر نے دعویٰ کیاہے کہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی ناکامی پروہ امریکہ میں سکونت اختیار کرلیں گے ۔ باپ اور بیٹے کے بیانات سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ کانگریس کی زیرقیادت پرجاکوٹمی ‘ریاست میں برسر اقتدار آئے گی اور برسراقتدار آنے کے بعد پرجاکوٹمی کی حکومت ‘کے ٹی آر کوملک سے باہر جانے نہیں دے گی اورکے ٹی آر سے جنہوں نے غیر قانونی طریقہ سے دولت کمائی ہے دوبارہ اس رقم حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پر گتی بھون کو رفاہ عامہ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم تلنگانہ ٹی ڈی پی کے صدر ایل رمنا نے پرگتی بھون کوسوپراسپیشالیٹی ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ پارٹی ان کی تجویزپرغورکرے گی۔ کانگریس کی زیر قیادت مہاکوٹمی کی جانب سے تشکیل حکومت کے بعد ہی اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیاجائے گا۔ کانگریس کی زیرقیادت عوامی محاذ کے منصوبہ سے متعلق اے ریونت ریڈی نے کہاکہ ہماری اولین ترجیح کسانوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے ۔کاشتکاروںکو مفت برقی سربراہی کے ساتھ ساتھ انہیں تمام ترسہولتیں فراہم کی جائیں گی اورکسانوں کو سبسیڈی پر اگریکلچران پٹس فراہم کئے جائیں گے اور زراعت میں عصری ٹکنالوجی کومتعارف کرایا جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ برسراقتدار آنے کی صورت میں مہاکوٹمی کی حکومت زرعی پیداوار کے حصول ‘ہرسال مقررہ قیمت پر زرعی پیداوار کی خریدی اور دیگر امور کی نگرانی کے لئے علحدہ وزارت اور کارپوریشن تشکیل دے گی۔ راشن شاپس سے تمام غریبوں میں اشیائے ضروریہ واجبی داموں پر تقسیم کی جائیں گی۔ مزید اشیاء فراہم کرتے ہوئے راشن دکانات کومستحکم بنایا جائے گا۔ انہوں نے وعدہ کیاکہ سرکاری محکموں میں مخلوعہ تمام جائیدادوں پر تقررات کے جائیں گے اس ضمن میں 31دسمبرسے ڈاٹا اکھٹاکیا جائے گا ۔ مختلف زمروں کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لئے ہرسال 2جون کو ٹسٹ منعقد کیاجائے گا۔ ریاست میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد تقریباً18 لاکھ ہے۔ 2لاکھ نوجوانوں کاسرکاری محکموں میں تقرر کیا جائے گا مابقی نوجوانوں کوخانگی شعبہ میں روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تعلیم اورصحت عامہ بھی دواہم شعبہ جات ہیں جسے ٹی آرایس حکومت نے مکمل طورپرنظر اندازکردیاہے ۔ سرکاری مدارس کی حالت کوبہتر بنایا جائے گا اوران مدارس کو کارپوریٹ اسکولس کے طرز پر ترقی دی جائے گی۔ پولیس ملازمین کے بچوں کو تعلیم مفت فراہم کی جائے گی۔ صحافیوں اور آرٹی سی ملازمین کے بچوں کو پیشہ وارانہ کورسوں میں داخلہ کے لئے مفت کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ شعبہ صحت کے بارے میں انہوں نے کہاکہ تمام منڈلوں میں 50 بستروں کی گنجائش کے حامل ہاسپٹلس قائم کئے جائیں گے اوران ہاسپٹلوں کو نرسنگ کالجوں سے جوڑا جائے گا۔ نرسنگ کالجوں سے فارغ ہونے والے امیدواروں کودیہی علاقوں میں تعینات کیاجائے گا۔ ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کابھی منصوبہ ہے ۔ صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے عوام کو مستفید کرایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *