نائیڈونے تلگوعوام کی عزت نفس کو کانگریس کے پاس رہن رکھدیا:کے ٹی آر

کارگذارریاستی وزیر وٹی آرایس قائد کے ٹی رامارائو نے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابونائیڈوپربانی تلگودیشم پارٹی این ٹی رامارائوکے ساتھ دوسری باردغابازی کاالزام عائد کیا۔ آج کوکٹ پلی میں منعقدہ ’’ہمارا حیدرآباد ‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو نے پہلی بار تلگودیشم پارٹی میں بغاوت کرواتے ہوئے این ٹی رامارائو کی پیٹھ میں خنجرگھونپاتھا اب دوسری بار تلگوعوام کی بدترین دشمن کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے این ٹی راما رائو کے ساتھ دوسری باردغابازی کی ۔ کے ٹی رامارائو نے کہاکہ این ٹی رامارائو کے نظریات تلگوعوام کی عزت نفس کی بحالی اور کانگریس کو خلیج بنگال میں غرقاب کرنا تھا۔ مگر چندرابابو نائیڈونے ان نظریات کوملیامیٹ کرتے ہوئے این ٹی رامارائو کی آتماکومجروح کیا ہے۔ کانگریس پارٹی پر حصول اقتدار کی لالچ میں اندھی ہوجانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں امن وآمان کے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران حیدرآباد میں نقض امن کا ایک بھی واقعہ رونماء نہیںہوا۔ ریاست تلنگانہ اور بالخصوص حیدرآباد میں عوام انتہائی پرامن ماحول میں مکمل بھائی چارہ کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسی لئے شہر کے عوام نے کانگریس اوربی جے پی کومسترد کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آرایس کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔ایک وقت تھاجب شہرمیں ہر دو تین ماہ میں کرفیولگایا جا تا تھا وہیں گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران چار سیکنڈ کے لئے بھی شہر میں کرفیونہیں لگایاگیا۔ چندرابابو نائیڈو کی جانب سے اپنے 9سالہ دور حکومت میں حیدرآباد کوترقی کی بلندیوں پر پہنچادینے کے متعلق بیان کوسفید جھوٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ اگریہ سچ ہے تو پھر وہی چندرابابونائیڈو ساڑھے چار سالوں کے دوران امراوتی کو ترقی دینے میں کیوں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ چندرابابو نائیڈوپر تلنگانہ کی سیاست میں غیر ضروری طورپر مداخلت کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کے ٹی رامارائو نے کہاکہ تلنگانہ میں اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے نائیڈوکوریاست آندھراپردیش کی ترقی اورعوام کی خوشحالی پرتوجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آرایس کو اقتدار حاصل ہوناطئے ہے اور چونکہ کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتیں اپنے طورپرٹی آرایس کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں ہیں اس لئے ایک ناپاک اتحاد تشکیل دیاگیا۔ انہوںنے مزید کہا کہ 11 دسمبر کے بعد راہول گاندھی کو چندرا بابونائیڈو کی جانب سے تحفہ میں دی گئی بانسری بجاتے ہوئے اپنا وقت گزارنا پڑے گا۔

جواب چھوڑیں