یوپی میں مسلمان ’’ دہشت زدہ‘‘ :ظفر یاب جیلانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک سینئر رکن ظفر یاب جیلانی نے آج کہا ہے کہ ایودھیا میں مسلمان‘ وشواہندوپریشد( وی ایچ پی) کی ’ دھرم سبھا‘ سے قبل دہشت زدہ ہیں ۔ اُنہوںنے الزام لگایاکہ مذکورہ سبھا( جلسہ عام)‘ 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل رام مندر مسئلہ کو زندہ رکھنے کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اُنہوںنے یہاں پی ٹی آئی کو بتایاکہ ’’ ایودھیا میں مسلمان گذشتہ تقریباً ایک ہفتہ سے ‘ دہشت کی فضاء میں زندگی گزاررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں‘ ہم نے اُن سے خواہش کی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو لکھنؤ آجائیں۔ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اگر کچھ ہوتا ہے تو ہم اِس کا بھی جائزہ لیں گے‘‘ ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ وی ایچ پی نے ایودھیا میں ایک عظیم رام مندر کی تعمیر کیلئے اپیل کرنے کل 25نومبر کو ایک جلسہ عام کا پروگرام بنایا ہے۔ایودھیا کو آج عملاً ایک قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور متعدد سیکورٹی گھیرے ڈال دیئے گئے ہیں۔ ’ دھرم سبھا ‘کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ لارڈ رام کے زائد از 3لاکھ معتقدین ‘امکانی طورپر مذکورہ جلسہ میں شرکت کیلئے پہنچیں گے۔ جیلانی نے جو ایک سینئر وکیل ہیں‘ بتایاکہ ایودھیا میں جوکچھ ہورہا ہے وہ تحقیر عدالت ہے ۔ ’’ قانون تویہ ہے کہ جو مسئلہ عدالت میں زیر غور ہے اُس پر برسرعام بحث نہیں کی جانی چاہئے لیکن یہاں تو بیانات کے ذریعہ اور جلسوں کے انعقاد کے ذریعہ عدالتوں کو چیلنج کیا جارہا ہے‘‘۔یہاں یہ بات بتلادی جائے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ 12نومبر کو رام جنم بھومی۔ بابری مسجد حق ملکیت تنازعہ کیس کی جلد سماعت سے متعلق درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل بنچ نے کہہ دیا ہے کہ اُس نے ‘ مذکورہ اپیلوں کو پہلے ہی ایک مناسب بنچ کے سامنے رکھا ہے جن کی سماعت آئندہ جنوری میں ہوگی۔ ظفر یاب جیلانی نے مزید کہا کہ ایسے میں جبکہ بی جے پی ‘ مندر کی تعمیر میں بہت سنجیدہ ہے ‘ شیوسینا اُس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے جس سے ایودھیا میں ہندواور مسلمان دونوں متاثر ہورہے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں پر اِس امر کو یقینی بنانے کیلئے زبردست دباؤ ہے کہ امن وضبط کی صورتحال بگڑنے نہ پائے۔ اترپردیش کے ایک پولیس ترجمان نے بتایاکہ کئی اعلیٰ پولیس عہدیداروں اور700کانسٹبلس کے علاوہ پی اے سی کی 42کمپنیوں‘ ریاپڈ ایکشن کی 5کمپنیوں اور انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو‘کمانڈوز کو متعین کردیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ایودھیا میں ڈرونس سے بھی کام لیا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں