مدھیہ پردیش میں 65.5 فیصد پولنگ۔ میزورم میں رائے دہی کا تناسب 70 فیصد

مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن میں چہارشنبہ کے دن مجموعی طورپر 65.5 فیصد رائے دہی ہوئی۔ یہ پچھلے الیکشن سے 7 فیصد کم ہے۔ 2013 کے اسمبلی الیکشن میں 72.69 فیصد رائے دہی ہوئی تھی ۔الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ چہارشنبہ کے دن الکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل(وی وی پیاٹ) مشینوں میں خرابی کی شکایتیں ملیں۔ 1145 ای وی ایم اور 1545 وی وی پیاٹ بدلے گئے۔ 227 حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے تا شام 5 بجے ہوئی جبکہ نکسلائٹس سے متاثرہ ضلع بالا گھاٹ کے 3 حلقوں لانجی ‘ پارس واڑہ اور بیہر میں رائے دہی صبح 7 بجے تا سہ پہر 3 بجے ہوئی۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر وی ایل کانتاراؤ نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ لگ بھگ 2.5 فیصد مشینیں بدلی گئیں۔ ناسازی ٔ صحت کے باعث اضلاع دھار‘ اندور اور گونا میں 3 ملازمین الیکشن ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے چل بسے۔ ضلع بھنڈ میں تشدد میں ایک شخص زخمی ہوا لیکن اس تشدد کا تعلق الیکشن سے نہیں تھا۔ الیکشن بوتھ سے کافی دور دو گروپس میں دشمنی کے باعث یہ جھڑپ ہوئی۔ کانگریس قائدین کا دعویٰ ہے کہ کئی مقامات پر الکٹرانک ووٹنگ مشینوں نے کام نہیں کیا۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان جو حلقہ بدھنی سے بی جے پی امیدوار ہیں اور ان کی بیوی سادھنا سنگھ نے اپنے آبائی موضع میں ووٹ ڈالے۔ ان کا آبائی موضع حلقہ بدھنی میں واقع ہے۔ کمل ناتھ نے ضلع چھندواڑہ میں ووٹ ڈالا جبکہ جیوتر آدتیہ سندھیا نے گوالیار میں ووٹ دیا۔ مدھیہ پردیش میں الیکشن 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے چند ماہ قبل ہوا ہے۔یو این آئی کے بموجب جن پولنگ عہدیداروں کی آج موت واقع ہوئی ان کے ورثا کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ملے گا۔ بالاگھاٹ کے پارس واڑہ ‘ لانجی اور بیہر میں بالترتیب 68 ‘ 64 اور 65 فیصد رائے دہی ہوئی۔ 70 الکٹرانک ووٹنگ مشین اور وی وی پیاٹ یونٹس بدلے گئے کیونکہ ان میں فنی خرابی کی شکایتیں ملی تھیں۔ اسی دوران میزورم اسمبلی کے لئے لگ بھگ 73 فیصد رائے دہی ہوئی۔ اس تناسب میں اضافہ کا امکان ہے کیونکہ آخری اطلاعات آنے تک پولنگ بوتھس پر رائے دہندوں کی قطاریں لگی تھیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر آشیش کندرا نے یہ بات بتائی۔ پولنگ تمام 40 حلقوں میں ہوئی۔ کندرا نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ سب سے زیادہ پولنگ 81 فیصد سرچپ حلقہ میں ہوئی جہاں سے چیف منسٹر للتن ہاؤلا الیکشن لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں میزو عوام کو مبارکباد دیتا ہوں کہ الیکشن آزادانہ‘ منصفانہ اور پرامن ہوا۔ میں میزو سیول سوسائٹی کا بھی شکرگذار ہوں جس نے الیکشن اتھاریٹی کی ممکنہ مدد کی۔ میزورم میں 108 سالہ ایک ووٹرنے ووٹ ڈالا۔ 106 ‘ 104 اور 96 برس کے رائے دہندوں نے بھی حق رائے دہی میں حصہ لیا۔ کئی معمر شہری ووٹ ڈالنے بیساکھیوں کے سہارے یا وہیل چیئر پر بیٹھ کر پولنگ بوتھ پہنچے۔ 3 پولنگ عہدیدار نشہ میں دھت پائے گئے۔ ان میں 2 پریسائیڈنگ آفیسر تھے۔ انہیں ڈیوٹی سے ہٹادیا گیا۔ ان تینوں نے دوسرے عہدیداروں پر حملہ کی کوشش کی تھی۔ ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہوگی۔ ریاست میں رائے دہی کے ابتدائی 4 گھنٹوں میں ووٹنگ کا تناسب لگ بھگ 29 فیصد درج ہوا۔

جواب چھوڑیں