نئے55 ہزار پٹرول پمپس کھولنے کی مخالفت۔ مرکز کے فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کرنے ڈیلرس اسوسی ایشن کا اعلان

ملک میں 55 ہزار 649 نئے پٹرول پمپوں کی منظوری دینے کے مرکز کے اعلان کو 72 گھنٹے بھی نہیں گذرے کہ پٹرول ۔ ڈیزل ریٹیلرس کی تنظیم نے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آل انڈیا پٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن (اے آئی پی ڈی اے) اجئے بنسل نے کہا کہ حکومت کا 25 نومبر کا اعلان خود اس کی اپنی پالیسی سے میل نہیں کھاتا۔ ڈیلرس اس کے قانونی جواز پر سوال اٹھائیں گے۔ بنسل نے کہا کہ ایک طرف مرکز 2025 تک متبادل ایندھن کے ذریعہ پٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کرتا ہے اور دوسری طرف نئے پٹرول پمپس کے الاٹمنٹ کے اشتہارات شائع ہوتے ہیں۔ حکومت کی اصل اپالیسی کیا ہے؟۔ ہندوستان میں فی الحال 56 ہزار ریٹیل پٹرول پمپس 3 سرکاری کمپنیوں بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ(بی پی سی ایل) ‘ ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ(ایچ پی سی ایل) اور انڈین آئیل کارپوریشن لمیٹڈ(آئی او سی ایل) کے ہیں۔ ان کے علاوہ لگ بھگ 6 ہزار پمپس خانگی کمپنیوں کے ہیں۔ سرکاری تیل کمپنیاں ان پمپس کے ذریعہ ماہانہ اوسطاً 120-130 کیلو لیٹر ایندھن فروخت کرتی ہیں۔ طلب میں سالانہ اوسطاً اضافہ لگ بھگ 4 فیصد کا ہوتا ہے۔ اے آئی پی ڈی اے نے اظہار حیرت کیا کہ گذشتہ 70 برس میں 56 ہزار ریٹیل پٹرول پمپس کھلے جبکہ موجودہ حکومت آنِ واحد میں 55,649 پٹرول پمپس کھولنا چاہتی ہے وہ بھی ایسے وقت جبکہ مانگ میں ہر سال 4 فیصد کا معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ بنسل نے نشاندہی کی کہ ایک سرکاری کمیٹی اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ ایک پٹرول پمپ اسی وقت چل سکتا ہے جب وہ ہر ماہ کم ازکم 1 لاکھ 70ہزار لیٹر فیول فروخت کرے۔ بنسل نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ غلط اور گمراہ کن ہے۔ پٹرول پمپ کاروبار میں آنے والوں کے لئے بھی یہ ٹھیک نہیں۔ اے آئی پی ڈی اے کے ترجمان علی دارو والا نے افسوس ظاہر کیا کہ فی الحال کئی لوگ پٹرول پمپ کاروبار چھوڑدینا چاہتے ہیں لیکن ایسے ڈیلرس کے لئے باہر جانے کا راستہ نہیں ہے کیونکہ موجودہ قوانین کی رو سے سرکاری تیل کمپنیاں پمپ کی زمین واپس نہیں کرتیں۔ دارووالا نے آئی اے این ایس سے کہا کہ ایک طرف جب حکومت متبادل ایندھن جیسے برقی‘ بائیو فیول‘ سی این جی متعارف کرارہی ہے وہیں دوسری طرف پمپوں کی تعداد دُگنی کرنا عجیب لگتا ہے۔ فیڈریشن آف آل مہاراشٹرا پٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن (ایف اے ایم پی ای ڈی اے ) اُدئے لودھ نے کہا کہ پٹرول پمپس کی تعداد دُگنی ہوجائے تو موجودہ اور نئے پمپس کا اوسط سیل گھٹ جائے گا۔

جواب چھوڑیں