اقوام متحدہ میں حماس کے خلاف امریکہ کی مذمتی قرارداد ناکام

 امریکہ کی جانب سے فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی مذمت کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ غزہ پر حکمرانی کرنے والی تنظیم حماس کے خلاف امریکہ کی یہ پہلی قرارداد تھی۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگسے پہلے 193 رکنی عالمی ادارے نے ایک قرارداد کے ذریعے طے کیا تھا کہ امریکی قرارداد کی منظوری کے لئے ایوان کی دو تہائی اکثریت درکار ہو گی جبکہ امریکہ اسے سادہ اکثریت سے منظور کرانے پر زور دے رہا تھا۔ امریکی مندوب نکی ہیلی نے ووٹنگ سے پہلے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ قرارداد کی منظوری سے ایک ایسی تاریخ رقم ہو گی جس میں غیر مشروط طور پر حماس کے خلاف ایوان کا موقف سامنے آئے گا کیونکہ بقول نکی ہیلی ’’حماس دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بے ڈھنگی اور واضح مثال ہے۔‘‘ تاہم جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں 87 جبکہ مخالفت میں 57 ووٹ پڑے جبکہ 33 ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس طرح قرارداد دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔اے پی کے بموجب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کی مذمت کے لیے پیش کی گئی ایک قرار داد کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی تعاون سے تیار کردہ یہ قرارداد مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ 87 ممبران نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اٹھاون نے اس کی مخالفت کی۔ بتیس ممالک غیرجانبدار رہے اور سولہ نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ امریکہ اور یورپی یونین دونوں نے ہی غزہ پٹی میں فعال حماس کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

جواب چھوڑیں