ایسا لگتا ہے گورنر کسی کا ایجنڈہ چلا رہے ہیں: محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے جاری ہونے والے غیرمعمولی احکامات پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کسی کا ایجنڈا چلایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گورنر صاحب کی عزت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوری سپیس کو غیرضروری طور پر استعمال کررہے ہیں۔ مفتی نے جمعہ کے روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘ہم گورنر صاحب کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مگر وہ جمہوری سپیس کو انکروچ کیوں کررہے ہیں؟ ۔ جیسے احکامات وہ جاری کرتے ہیں ایسے احکامات کی تو کوئی ایمرجنسی نہیں ہے ۔ کوئی ایسی جلدی نہیں ہے کہ اس حکم نامے کو فوراً جاری کرنا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کسی کا ایجنڈا چلایا جارہا ہے ۔ جس طرح روزانہ کی بنیاد پر حکم نامے جاری ہورہے ہیں’۔ انہوں نے کہا ‘پچھلے کئی ماہ سے یہاں گورنر راج نافذ ہوا ہے ۔ اس دوران کئی فیصلے لئے گئے جو جموں وکشمیر کے مفادات کے خلاف تھے ۔ ہمیں امید تھی کہ گورنر صاحب جو خود ایک سیاستدان رہ چکے ہیں، کہ وہ اس ریاست کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے بہت محتاط رہیں گے ۔ پر بدقسمتی سے روزمرہ کی بنیادوں پر کوئی ایسا حکم نامہ جاری ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں میں عدم تحفظ پیدا ہورہا ہے ۔ کچھ سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر سبھی سیاسی جماعتیں پریشان ہیں۔ بیچ میں جے اینڈ کے بینک کو پی ایس یو قرار دینے کو منظوری دی گئی۔ اس کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ پروسیجر کو بدلنے کی بات چلی۔ روشنی ایکٹ کو بالکل کالعدم قرار دیا گیا ۔ اس ایکٹ کے تحت صاحب ثروت لوگوں نے تو زمینیں حاصل کرلیں مگر اس کو کالعدم کرنے کا ہماری غریب آبادی جیسے گوجر و بکروالوں پر بہت ہی برا اثر پڑے گا’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر حسیب احمد درابو کے پی ڈی پی سے چلے جانے پر بہت افسوس ہے ۔ ان کا کہنا تھا ‘جب الیکشن ہوتے ہیں تو لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں۔ مجھے درابو صاحب کا بہت افسوس ہے ۔ انہیں مفتی صاحب نے پیار سے پارٹی میں لایا تھا۔ پر ان کی اپنی سوچ اور سمجھ ہے ۔ میں ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہوں’۔ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے دوری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مفتی نے کہا کہ وہ اپنے فیصلے سے خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘عوام طاقت کا سرچشمہ ہے ۔ الیکشن ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی انتخابات میں شمولیت کرتے ہیں تو کبھی نہیں کرتے ہیں۔ چونکہ دفعہ 35 اے کو پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ یہاں کی ایک علاقائی جماعت ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ہم اپنے فیصلے سے مطمئن اور خوش ہیں’۔ پریس کانفرنس میں پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ رفیع احمد میر اور سینئر لیڈر عبدالرحمان ویری بھی موجود تھے ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ خطہ لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے وقت چناب ویلی اور پیرپنچال کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہم ایجی ٹیشن شروع کریں گے ۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ گورنر انتظامیہ کو ایسے فیصلے عوامی منتخب حکومت پر چھوڑنے چاہیے ۔ مفتی جمعہ کے روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ اس موقع پر پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ رفیع احمد میر اور سینئر لیڈر عبدالرحمان ویری بھی موجود تھے ۔ بتادیں کہ چناب ویلی کے تین اضلاع کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن اور پیر پنچال کے دو اضلاع پونچھ اور راجوری فی الوقت صوبہ جموں کے ساتھ منسلک ہیں۔ تاہم پہاڑی اور دور دراز ہونے کی وجہ سے یہ پانچوں اضلاع بہت پسماندہ ہیں۔مفتی نے خطہ لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کی میڈیا رپورٹوں پر کہا ‘اب لداخ کو صوبہ دینے کی بات چل پڑی ہے ۔ ہمیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ دونوں اضلاع (کرگل اور لیہہ) میں لداخ خودمختاری پہاڑی ترقیاتی کونسل ہے ۔ میری گورنر صاحب سے اپیل ہے ۔ ہم تمام سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس، کانگریس، آزاد امیدوار ، تاریگامی صاحب (محمد یوسف تاریگامی) ، حکیم یاسین صاحب (حکیم محمد یاسین) ، انجینئر رشید صاحب (انجینئر شیخ عبدالرشید) ہم سب اکٹھے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر آپ لداخ کو صوبہ دے رہے ہیں تو پیر پنچال کو بھی ملنا چاہیے اور چناب ویلی کو بھی ملنا چاہیے ۔ اگر انہوں نے لداخ کے بارے میں سوچا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ پیر پنچال کا خطہ بھی بہت دور دراز ہے ۔ پہاڑیوں اور جنگلوں سے گھرا ہے ۔ مناسب رابطہ سڑکیں نہیں ہیں۔ بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ کرگل اور لیہہ میں تو کم از کم ترقیاتی کونسل ہیں لیکن وہاں وہ بھی نہیں ہیں’۔ انہوں نے کہا ‘میں سمجھتی ہوں کہ لداخ ،پیرپنچال اور چناب ویلی میں صوبے قائم کرکے اچھی حکمرانی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ آنے والے وقت میں پیرپنچال اور چناب میں بھی ترقیاتی کونسلوں کے لئے راستہ کھل سکتا ہے ۔ اس کے لئے میں یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ اگر گورنر صاحب یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لداخ کو صوبے کا درجہ دیں گے ، تو اس میں پیرپنچال اور چناب ویلی کی لازمی شمولیت ہونی چاہیے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم پرامن احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے ‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ چناب ویلی اور پیر پنچال بہت زیادہ منقطع اور پچھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘کرگل اور لیہہ میں ترقیاتی کونسل پہلے سے کام کررہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ گورنر صاحب کی ٹیم انہیں صحیح مشورہ نہیں دیتی ہے ۔ اگر انہیں صحیح مشورے دیے جاتے تو وہ اس طرح کے فیصلے نہیں لیتے ۔ اگر گورنر صاحب سمجھتے ہیں کہ لداخ کو صوبے کا درجہ دیا جانا چاہیے تو میں کہنا چاہوں گی کہ چناب ویلی تو زیادہ منقطع ہے ۔ اسی طرح پیر پنچال بھی پچھڑا علاقہ ہے ۔ وہاں تو ابھی ہل کونسل بھی نہیں ہے ‘۔ انہوں نے مزید کہا ‘میرا ماننا ہے کہ یہ فیصلے ایک عوامی حکومت پر چھوڑنے چاہیں۔ اگر وہ یہ فیصلہ ابھی لینا چاہتے ہیں تو میری گذارش ہوگی کہ پیرپنچال اور چناب ویلی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔ اگر ان کو نظرانداز کیا گیا تو ہم ایجی ٹیشن کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ‘۔

جواب چھوڑیں