تلنگانہ اسمبلی الیکشن، 1821 امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشینوں میں بند

تلنگانہ میں اسمبلی کے119 حلقوں کیلئے جمعہ کو ووٹ ڈالے گئے ۔ تشدد کے اکادکا چھوٹے واقعات کے سوا چند مراکز پر ووٹنگ مشینوں میں خرابی اور ووٹرلسٹ سے ناموں کے غائب ہونے کی شکایتوں کے درمیان رائے دہی کا پرامن اختتام عمل میں آیا ۔ رائے دہی کا تناسب تقریباً 70 فیصد رہا ۔ شہر حیدرآباد کے سوا جہاں15، اسمبلی حلقہ ہیں ریاست بھر میں رائے دہی کے عمل میں تیزی دیکھی گئی ۔119 اسمبلی حلقوں سے1821 امیدوارانتخاب لڑرہے ہیں۔ ان کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہوچکی ہے۔11دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی ۔ چند مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ اور وی وی پی اے ٹی، مشینوں میں خرابی پیدا ہونے کی شکایتیں وصول ہوئی ہیں۔ مگر ماہرین نے ان مشینوں میں فنی خرابی کو دور کردیا جس کے بعد رائے دہی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا ۔ ریاست بھر میں رائے دہی کو آزادانہ ومنصفانہ بنانے کیلئے پولیس کی جانب سے سخت صیانتی انتظامات کئے گئے ۔ چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار، صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے تھے ۔ ریاست بھر میں پولنگ کا آغاز صبح7 بجے سے ہوا ۔ ماوسٹوں سے متاثرہ 13 حلقوں میں ایک گھنٹہ قبل 4بجے شام تک رائے دہندوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیاجبکہ مابقی103 اسمبلی حلقوں میں5بجے شام تک رائے دہی کا عمل جاری رہا ۔5 بجے شام کے بعد رائے دہی روک دی گئی ۔ ریاست کے بیشتر مقامات بالخصوص مواضعات میں تہوار جیسا ماحول دیکھا گیا ۔ عوام کی بڑی تعداد جوش وخروش کے ساتھ ووٹ ڈالنے بوتھس پہنچی ۔ کئی مراکز رائے دہی پر رائے دہندوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرا کے سرحدی علاقوں جو ماوسٹوں سے متاثر ہیں، میں پولیس کا سخت بندوبست دیکھا گیا ۔ ریاست کے تمام119 اسمبلی حلقوں میں رائے دہی کا پرامن اختتام عمل میں آیا ۔3 بجے سہ پہر تک ریاست میں رائے دہی کا تناسب56.17 فیصد رہا ۔ شہر کے حلقہ اسمبلی مشیر آباد میں42 فیصد، گوشہ محل میں 42فیصدرائے دہی ہوئی ۔ 3بجے تک وقار آباد میں57.75 فیصد، میڑچل میں 59 فیصد، پداپلی ضلع میں55، سرسلہ ضلع میں60.25 ، جگتیال میں 61.23 فیصد، کریم نگر میں55 ، میدک میں73.25 ‘ عادل آباد میں55.93 ، کاماریڈی میں 61.81 ونپرتی میں62.12 ناگر کرنول میں59 اورضلع نرمل میں60.60 فیصد رائے دہی ہوئی ہے ۔آئی اے این ایس کے بموجب تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی بار منعقدہ اسمبلی انتخابات میں آج ریاست کے تقریباً 70 فیصد ووٹروں نے رائے دہی میں حصہ لیا ۔ تشدد کے اکادکا چھوٹے واقعات کے سوا تلنگانہ کے تمام 32,815 مراکز رائے دہی پر پولنگ کا پرامن اختتام عمل میں آیا ۔ ریاست کے2.8 کروڑ رائے دہندوں نے1821 امیدواروں کی قسمت کو ووٹنگ مشینوں میں بند کردیا ہے ۔119 کے منجملہ ماوسٹوں سے متاثرہ13حلقوں میں رائے دہی ایک گھنٹہ قبل 4بجے شام کو ختم ہوئی جبکہ مابقی حلقہ جات اسمبلی میں 5 بجے شام تک رائے دہی کا اختتام عمل میں آیا ۔ صبح7 بجے سے سست روی کے ساتھ رائے دہی شروع ہوئی مگر9 بجے کے بعد تیزی آئی ۔ چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار نے بتایا کہ31 اضلاع میں 32,815 پولنگ بوتھس پر رائے دہی بحیثیت مجموعی پرامن رہی ۔ انہوںنے بتایا کہ چند مراکز پر ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے سبب رائے دہی تاخیر سے شروع ہوئی ۔ مختلف مقامات پر رائے دہندوں نے ووٹر لسٹ سے ناموں کے غائب ہونے کی شکایت کی ۔ عہدیداروں نے ووٹر سلپس سے محروم رائے دہندوں کو ووٹ ڈالنے سے روکدیا جس کے سبب ان افراد نے عہدیداروں سے احتجاج کیا ۔ انتخابات کو پرامن بنانے کیلئے50ہزار پولیس ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ نتائج کا اعلان 11 دسمبر کو کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں