دونوں شہروں میں رائے دہی پرامن‘ کئی پولنگ بوتھس پرووٹنگ مشینیں خراب

دونوں شہروں میں رائے دہی پرامن رہی۔ کئی بوتھس پر ووٹنگ مشینیں خراب ہونے سے رائے دہی میں تاخیر ہوئی۔ پرانا شہر کے 5 اسمبلی حلقہ جات چارمینار‘ یاقوت پورہ‘ چندرائن گٹہ‘ بہادر پورہ اور ملک پیٹ میں رائے دہی پرامن رہی۔ یاقوت پورہ میں 45 فیصد ‘ بہادر پورہ میں 49.5 فیصد‘ چندرائن گٹہ میں 48 فیصد‘ چارمینار میں 46 فیصد‘ رائے دہی ریکارڈ کی۔ یہ ابتدائی رپورٹ کے اعدادو شمار ہیں۔ قطعی تناسب رات دیر گئے معلوم ہوں گے۔ آج صبح ہی سے پرانا شہر کے حلقوں میں رائے دہی کی رفتار سست رہی۔ مرد رائے دہندے ہی ووٹ ڈالنے اپنے گھروں سے نکل رہے تھے۔ کئی مقامات پر ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ سے رائے دہی میں تاخیر ہوئی۔سٹ ون موتی گلی کے ایک بوتھ پر مشین خراب ہونے سے رائے دہی کے آغاز میں دو گھنٹے تاخیر ہوئی۔ بوتھ نمبر 45 جہاں ووٹوں کی جملہ تعداد 1279 ہے 11 بجے تک صرف 138 ووٹ ڈالے گئے۔ اس بوتھ پر مشین کو بدلنا پڑا تھا۔ دھرم ونت ہائی اسکول کے بوتھ نمبر 132 پر جہاں ووٹوں کی تعداد 632 ہے وہاں پونے گیارہ بجے تک صرف 65 ووٹ ڈالے گئے۔ مریم اسکول یاقوت پورہ کے بوتھ نمبر 22 فیصد پر جہاں رائے دہندوں کی تعداد 1308 ہے‘ 11 بجے تک صرف 213 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ملک پیٹ حلقہ کے محلہ باغ جہاں آراء کے 15 بوتھس پر 11 بجے تک مجموعی طور پر 12 تا 15 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ درِشہوار اسکول بوتھس پر 11 بجے تک 12 فیصد تک ووٹ ڈالے گئے۔ اس اسکول میں جملہ 9 بوتھس ہیں۔ یہاں گیٹ پر ریاپیڈ ایکشن فورس کے جوان ووٹر سلیپ چیک کرکے رائے دہندوں کو اندر چھوڑ رہے تھے۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول بارکس میں بوتھ نمبر 94 پر جہاں 1325 رائے دہندوں کی تعداد ہے۔ وہاں 12 بجے تک صرف 160 ووٹ ڈالے گئے۔کیندریہ ودیالیہ کنچن باغ میں جہاں 4 بوتھس میں 12 بجے تک رائے دہی کا تناسب 12 تا 15 فیصد رہا۔ بوتھ نمبر 120 پر مشین کی خرابی سے رائے دہی میں 2 گھنٹہ کی تاخیر ہوئی۔ یاقوت پورہ حلقہ کے اسلامیہ ہائی اسکول میں جہاں 5 بوتھس تھے وہاں 11 بجے تک 11 تا 12 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ بہادر پورہ حلقہ کے موچی کالونی تاڑبن کے کمیونٹی ہال میں 10 بجے تک صرف 201 ووٹ ڈالے گئے جہاں جملہ ووٹ 1020 تھے۔ اسٹینڈرڈ پبلک اسکول خلوت حلقہ چارمینار کے بوتھ نمبر 37 پر 10 بجے تک صرف 133 ووٹ ڈالے گئے۔ یہاں پولنگ ایجنٹ کی تاخیر سے آمد کی وجہ سے رائے دہی میں تاخیر ہوئی۔ اس دوران اسٹرائیکینگ فورس نے حلقہ چارمینار کے کانگریس امیدوار کے دفتر واقع موتی گلی سے 4 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ کوکہ کی ٹٹی سے ایک بوتھ کے پاس ٹھہرے ہوئے 3 نوجوانوں کو جن کا تعلق ایم آئی ایم سے ہے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولنگ بوتھس کے قریب دفعہ 144 نافذ کیا گیا تھا۔ سٹ ون موتی گلی کے ایک بوتھ پر 90 سالہ خاتون عظمت طاہرہ نے وہیل چیر پر پہنچکر اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ ان کے ہمراہ فرزند محمد مجاہد تھے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے علاقہ بھوانی نگر انور پبلک اسکول میں جہاں 5 بوتھس تھے شام 4 بجے تک 40 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔اس علاقہ میں واقع ایک مدرسہ کے بوتھ نمبر 188 اور 189 پر شام 4:30 بجے تک 45 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ حلقہ بہادر پورہ دیوی باغ کے بوتھس نمبر 29 ‘ 30 ‘ 31 ‘ 32 میں کئی افراد کے نام فہرست رائے دہندگان سے غائب تھے۔ رائے دہندوں کی کثیر تعداد نے حکام کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران شام ساڑھے چار بجے رین بازار کے ایک بوتھ پر بوگس ووٹنگ کی شکایت پر ایم بی ٹی اور ایم آئی ایم کے کارکن جمع ہوگئے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔ اس دوران ڈی سی پی ساؤتھ زون وہاں پہنچ گئے ان کے آتے ہی دونوں گروپس وہاں سے منتشر ہوگئے۔ امان نگر کے ایک پولنگ بوتھ پر بھی بوگس ووٹنگ کی شکایت کی گئی۔ ایم بی ٹی امیدوار مجید اللہ خاں فرحت نے رین بازار کے لٹل اسٹار اسکول کے بوتھس میں بوگس ووٹنگ کے خلاف پولیس سے شکایت کی۔ پولیس نے وہاں موجود بعض نوجوانوں کو منشتر کردیا۔ ڈسٹرکٹ کمانڈ کنٹرول کے مطابق حلقہ چارمینار میں 9 بجے تک 4 فیصد ‘ 11 بجے تک 13 فیصد ‘ ایک بجے 27.5 فیصد ‘ 3 بجے تک 32 فیصد اور 5 بجے تک 50 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ چندرائن گٹہ میں 9 بجے تک 7.5 ‘ 11 بجے تک 11 فیصد‘ ایک بجے تک 18.6 فیصد‘ 3 بجے تک 26 فیصد اور 5 بجے تک 48 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ حلقہ یاقوت پورہ میں 9 بجے تک 4 فیصد‘ 11 بجے تک 10.5 فیصد‘ ایک بجے تک 21 فیصد‘ 3 بجے تک 32 فیصد اور 5 بجے تک 33 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ بہادر پورہ میں 9 بجے تک 8 فیصد ‘ 11 بجے 17 فیصد‘ ایک بجے تک 25.6 فیصد‘ 3 بجے تک 42.3 فیصد اور 5 بجے تک 57 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ شہر کے دیگر حلقوں مشیرآباد میں شام تک 51.04 فیصد تک رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ عنبر پیٹ میں جملہ 55.2 فیصد ‘ خیریت آباد میں 54 فیصد‘ جوبلی ہلز میں 54.6 فیصد‘ صنعت نگر میں 52.63 فیصد‘ نامپلی میں 44.02 فیصد‘ کاروان میں 50.89 فیصد‘ گوشہ محل میں 50.28 فیصد‘ سکندرآباد میں 57 فیصد اور سکندرآباد کنٹونمنٹ میں 48.9 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ آج جمعہ کے پیش نظر پرانا شہر کے علاوہ نئے شہر کے مسلم علاقوں میں نماز جمعہ سے قبل رائے دہی کا تناسب سست رہا جبکہ نماز کے بعد لوگ کثیر تعداد میں پولنگ بوتھس پہنچ رہے تھے۔ کئی بوتھس پر 5 بجے کے بعد بھی قطاریں دیکھی گئی۔ جن پولنگ بوتھس پر مشین خراب ہوگئے تھے وہاں رائے دہی کے لئے زائدوقت طلب کیا گیا تاہم پرسائیڈینگ آفیسر نے صرف قطار میں ٹھہرے ہوئے رائے دہندوں کو بھی اجازت دی۔ کئی بوتھس پر 5 بجے ہی رائے دہندوں کو روک دیا گیا۔ جس کے خلاف ایم آئی ایم کے امیدوار احمد پاشاہ قادری نے یاقوت پورہ کے ایک بوتھ پر اپنے حامیوں کے ساتھ دھرنا دیا۔ جس کے بعد رائے دہندوں کوووٹ دینے کی اجازت دی گئی۔

جواب چھوڑیں