رائے دہی کے پرامن اختتام پررجت کمار کااظہار مسرت

چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ ڈاکٹر رجت کمار نے جمعہ کوکہاکہ اسمبلی کے 119 حلقوں کے لئے آج رائے دہی ہوئی جوپرامن رہی ۔ راہی دہی کا تناسب5بجے شام تک 67 فیصد رہا ۔رائے دہی کے تناسب میں مزید 3فیصد تک اضافہ کاامکان ہے ۔اس طرح کم وبیش پولنگ کاتناسب70 فیصد تک پہونچ جائے گا۔ 2014 کے انتخابات میں رائے دہی کا تناسب 69.5 فیصد تھا ۔ چندایک ناخوشگوار واقعات کے سوارائے دہی پرامن رہی ۔ ریاست کے کسی بھی بوتھ کے پریسائیڈنگ آفیسریاکسی سیاسی جماعت کی جانب سے مکرر رائے دہی کا مطالبہ نہیں کیاگیا ۔ اگر کسی گوشہ سے مکرررائے دہی کے مطالبہ پر مناسب غور کیاجائے گا۔یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رجت کمارنے کہاکہ ریاست کے تقریباً 70 فیصدرائے دہندوں نے 1821 امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشینوں میں بند کردی ہے ۔11 دسمبر کونتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ریاست میں سب سے زیادہ رائے دہی 91 فیصد ضلع یدادری بھونگیر میں ہوئی ۔ سب سے کم پولنگ ضلع کتہ گوڑم میں ہوئی ۔ سب سے زیادہ پولنگ نارائن پیٹ اور آلیر حلقوں میں بالترتیب 84اور 83فیصد رہی ۔ انہوںنے کہاکہضلع عادل آبادمیں 76.05 فیصد ‘آصف آباد میں 78.49 فیصد ‘ بھدرادری کتہ گوڑم میں 50.32فیصد‘ حیدرآباد میں 50.86 فیصد ‘ جگتیال میں 77.61فیصد ‘ جوگولامباگدوال میں 71.95 فیصد ‘جنگائوں میں 57.26 فیصد‘جئے شنکربھوپال پلی میں 65.26فیصد ‘ کاماریڈی میں 73.05 فیصد ‘ کریم نگر میں 76فیصد ‘کھمم میں 71.20 فیصد ‘محبوب نگر میں 70.94 فیصد ‘محبوب آباد میں 75 فیصد‘میدک میں 86 فیصد‘منچریال میں 64.38 فیصد ‘ میڑچل میں 50.37 فیصد ‘ ناگرکرنول میں 58فیصد‘نرمل میں 79.33 فیصد ‘نظام آباد میں 73.81فیصد ‘ ضلع رنگاریڈی میں 59.57 فیصد ‘ سنگاریڈی میں 60.50فیصد ‘سرسلہ میں 78.42 فیصد ‘سدی پیٹ میں 63.84 فیصد ‘سوریاپیٹ میں 65.07 فیصد‘ وقار آباد میں 66فیصد ‘ضلع ورنگل رورل میں 65 فیصد ‘ورنگل اربن میں 55فیصد‘ضلع ونپرتی میں 80.83 فیصد‘ ضلع پداپلی میں 62.66 فیصد ‘اورضلع یادادری بھونگیرمیں 91 فیصد رائے دہی ہوئی۔ نکسلایٹس سے متاثرہ 13 اسمبلی حلقوں میں 74فیصد رائے دہی ہوئی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی ای اورجت کمار نے رائے دہی کے پرامن انعقاد پرخوشی کااظہار کیا اورکہاکہ انتخابی عمل کے دوران جملہ 4262 شکایتیں وصول ہوئی تھیں جن میں سے 3650 شکایتوں پر کاروائی کی گئی جبکہ مابقی642 شکایتیں مختلف مراحل میں زیرالتواء ہیں۔ انہوں نے فہرست رائے دہندگان سے چند ناموں کو حذف کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیااورکہا کہ26دسمبر سے ووٹرلسٹ پر نظرثانی کاکام شروع کیاجارہاہے جس میں احتیاط کے ساتھ کام کیاجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ تشدد کے ایک واقعہ میں حلقہ اسمبلی کلواکرتی کے مہاکوٹمی امیدوار ومشی چندرا ریڈی زخمی ہوگئے ۔

جواب چھوڑیں