راجستھان میں 72.17 فیصد پولنگ ۔بی جے پی اور کانگریس ورکرس میں جھڑپیں

راجستھان میں جمعہ کے دن آتشزنی ‘ جھڑپوں اور الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں فنی خرابی کے چند واقعات کے سوا زبردست پولنگ ہوئی جس کا تناسب 72.17 فیصد رہا۔ 47.43ملین رائے دہندوں کی 72.17 فیصد تعداد نے ووٹ ڈالا۔ پولنگ صبح 8 بجے 51,687 پولنگ اسٹیشنس پر شروع ہوئی تھی۔ ریاست میں 199 اسمبلی حلقے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گذرتا گیا رائے دہندوں کی قطاریں طویل ہوتی چلی گئیں۔ شام 5 بجے پولنگ اسٹیشنوں کے دروازے جس وقت بند کئے جارہے تھے اس وقت بھی باہر رائے دہندوں کی طویل قطاریں موجود تھیں۔ 5 بجے تک پولنگ مراکز پہنچ جانے والوں کو رائے دہی کا موقع دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے یہ بات بتائی۔ تشدد کے اکادکا واقعات کو چھوڑکر پولنگ بڑی حد تک پرامن رہی۔ اپوزیشن کانگریس نے شکایت درج کرائی کہ 400 سے زائد الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی آئی۔ آتشزنی اور تشدد کے چند واقعات پیش آئے۔ کولایت ۔ بیکانیر میں بی جے پی امیدوار پونم کنور بھاٹی اور کانگریس امیدوار بھنور سنگھ بھاٹی کے حامیوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ تشدد پر آمادہ گروپ نے ایک گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ دیگ ٹاؤن میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر چھرا گھونپنے کا واقعہ پیش آیا۔ 2 گروپس نے توڑپھوڑ کی اور فتح پور شیخاوتی پولنگ اسٹیشن کے باہر سنگباری کی تاہم ووٹنگ جاری رہی۔ ضلع سکر میں نوجوانوں کے دو گروپس متصادم ہوگئے۔ جیسلمیر کے حلقہ پوکھران کے ایک بوتھ پر معمولی جھگڑا ہوا۔ کانگریس اور بی جے پی حامی نوکھا (بیکانیر) ‘ کھمسر(ناگور) اور مسعودہ ٹاؤن میں بھی ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ مسعودہ میں پولنگ ایک گھنٹہ کے لئے روکنی پڑی۔ کھمسر میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے ہلکی طاقت استعمال کی۔ اسی دوران ضلع ٹونک کے رسول پور میں دوپہر کے وقت ایک حادثہ پیش آیا ۔ ووٹ ڈالنے کے بعد ٹریکٹرس ٹرالی میں سوار ہوکر جانے والے لوگ زخمی ہوگئے جنہیں قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔ ایک ریٹائرڈ ٹیچر چودھری ‘ ضلع بیکانیر کے ایک موضع میں ووٹ ڈالتے وقت قلب پر حملہ کے باعث چل بسا۔ گنگاپور سٹی میں ایک عمررسیدہ خاتون بھی ووٹ ڈالتے وقت چل بسی۔ ضلع باڑھ میر کے حلقہ شیو کے ایک موضع کے لوگوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ انہیں برقی کنکشنس کے سلسلہ میں شکایت ہے۔ دیہاتی ‘ پولنگ اسٹیشن کے سامنے جمع ہوگئے اور انہوں نے کسی کو بھی ووٹ ڈالنے نہیں دیا۔ اضلاع جودھپور‘ گنگانگر‘ الور‘ جئے اور اُدئے پور کے بعض بوتھس پر الکٹرانک ووٹنگ مشینوں نے کام نہیں کیا۔ 47.43 ملین رائے دہندوں نے 2274 امیدواروں کا سیاسی مستقبل مشینوں میں بند کردیا۔ راجستھان میں 187 خاتون امیدواروں نے بھی الیکشن لڑا۔ پی ٹی آئی کے بموجب راجستھان میں شام 5بجے تک 72 فیصد سے زائد ووٹنگ ہوئی۔ اس ریاست میں رجسٹرڈ رائے دہندوں کی تعداد 4 کروڑ 74 لاکھ ہے ۔ راجستھان اسمبلی 200 رکنی ہے۔ 199 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ۔ ضلع الور کے شاہجہاں پور موضع میں شرپسندوں کو منتشر کرنے نیم فوجی فورسس کے جوانوں کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔ چیف منسٹر وسندھرا راجے ‘ صدر پردیش کانگریس سچن پائلٹ اور دیگر قائدین نے بھی ووٹ ڈالا۔ وسندھرا راجے نے جھالرا پٹن میں‘ سچن پائلٹ نے ٹونک میں اور سابق چیف منسٹر اشوک گہلوت نے سردارپورہ میں ووٹ ڈالا۔ ضلع الور کے حلقہ رام گڑھ میں رائے دہی نہیں ہوئی کیونکہ یہاں بہوجن سماج پارٹی امیدوار لکشمن سنگھ چل بسا تھا۔ نتائج کا اعلان 11 دسمبر کو ہوگا۔ بی جے پی کی امیدوار چیف منسٹری وسندھرا راجے کا مقابلہ جھالرا پٹن میں بی جے پی کے بزرگ قائد جسونت سنگھ کے لڑکے مانویندر سنگھ سے رہا۔ مانویندر سنگھ الیکشن سے عین قبل کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بار وسندھرا راجے کے لئے مقابلہ مشکل بنادیا۔ ٹونک میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ یہاں مقابلہ سچن پائلٹ اور بی جے پی امیدوار یونس خان کے درمیان رہا۔ یونس خان ‘ وسندھرا راجے کی حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ تھے ۔ وہ راجستھان میں بھگوا جماعت کے واحد مسلم امیدوار ہیں۔ بی جے پی نے ابتدا میں رکن اسمبلی اجیت سنگھ مہتا کو ٹونک کا ٹکٹ دیا تھا لیکن بعد میں اس نے حکمت عملی بدلی اور سچن پائلٹ کے مقابلہ میں یونس خان کو لاکھڑا کیا۔ سچن پائلٹ کا یہ پہلا اسمبلی الیکشن ہے۔ وہ 2مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ کانگریس برسراقتدار آئی تو ان کا چیف منسٹر بننا طے ہے۔ 130 حلقوں میں مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان رہا۔ موجودہ اسمبلی میں بی جے پی کی نشستیں 160 ہیں جبکہ کانگریس ارکان کی تعداد 25 ہے ۔

جواب چھوڑیں