ہیتھر نوارٹ کے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نامزد ہونے کا امکان

اڑتالیس سالہ ہیتھر نوارٹ ماضی میں صحافی رہی ہیں جنہیں اپریل 2017ء میں ٹرمپ حکومت نے محکمۂ خارجہ کا ترجمان مقرر کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ کو اقوامِ متحدہ میں امریکہ کا نیا سفیر نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے نوارٹ کی نامزدگی کا اعلان جمعے کو متوقع ہے۔نوارٹ کی تعیناتی امریکی سینیٹ کی توثیق سے مشروط ہوگی اور سفارت کاری اور سیاسی معاملات کا کوئی تجربہ نہ ہونے کے باعث انہیں توثیق کے عمل کے دوران سینیٹرز کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ہیتھر کی نامزدگی کی خبر وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کو دی ہے جب کہ امریکی محکمۂ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ اڑتالیس سالہ ہیتھر نوارٹ ماضی میں صحافی رہی ہیں جنہیں اپریل 2017ء میں ٹرمپ حکومت نے محکمۂ خارجہ کا ترجمان مقرر کیا تھا۔ رواں سال کے آغاز میں ہیتھر نوارٹ کو قائم مقام معاون وزیرِ خارجہ برائے عوامی سفارت کاری اور تعلقاتِ عامہ کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی تھی جو وہ تاحال انجام دے رہی ہیں۔محکمۂ خارجہ کی ترجمان بننے سے قبل ہیتھر نوارٹ ‘فوکس نیوز’ کے ساتھ بطور نمائندہ اور میزبان کام کر رہی تھیں۔ وہ اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے ‘اے بی سی نیوز’ سے بھی منسلک رہ چکی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہیتھر نوارٹ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس اور وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے خاصے قریب ہیں اور بیشتر بیرونی دوروں پر بھی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ ہوتی ہیں۔ اگر سینیٹ نے نوارٹ کی نامزدگی کی توثیق کردی تو وہ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی موجودہ سفیر نکی ہیلی کی جگہ سنبھالیں گی جنہوں نے اکتوبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ہیلی رواں سال کے اختتام پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گی۔تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ نوارٹ کی نامزدگی کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کا عہدہ کابینہ کا حصہ نہیں رہے گا جیسا کہ وہ نکی ہیلی کے دور میں ہوا کرتا تھا۔برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق صدر ٹرمپ سال کے اختتام سے قبل وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف جان کیلی سمیت اپنی حکومت کے بعض دیگر اہم عہدیداروں کی تبدیلی پر بھی غور کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں