ایران پرامریکی پابندیاں معاشی دہشت گردی : حسن روحانی

صدر ایران حسن روحانی نے بتایا کہ ایران پر امریکی تحدیدات اقتصادی دہشت گردی ہے جبکہ صدر ایران نے آج علاقائی عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے متحدہ محاذ کو فروغ دینے کی کوشش کی ۔ واشنگٹن نے 2015 نیوکلیر سمجھوتہ جو ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان طے پایاتھا اس سے مئی میں علحدگی اختیار کرنے کے بعد ایران سے تیل کی تجارت پر امتناع اور دیگر نقصاندہ تحدیدات دوبارہ عائد کردیاہے ۔ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اس اقتصادی دہشت گردی کا مقصد کسی بھی ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا اور دوسرے ملکوں کو خوف زدہ کرکے انہیں اس ملک میں سرمایہ کاری سے باز رکھنا ہے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے ملک پر عائد امریکی پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ہفتے کو علاقائی ملکوں کی ایک پارلیمانی کانفرنس سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی ناجائز اور غیر قانونی پابندیاں ناقابلِ قبول ہیں اورایران کے خلاف دہشت گردی کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقتصادی دہشت گردی کا مقصد کسی بھی ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا اور دوسرے ملکوں کو خوف زدہ کرکے انہیں اس ملک میں سرمایہ کاری سے باز رکھنا ہے۔تہران میں جاری کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، چین، ترکی اور روس کی پارلیمان کے اسپیکرز شریک ہیں۔کانفرنس سے اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک کو ایک ہمہ گیر حملے کا سامنا ہے جس سے نہ صرف ایران کی شناخت اور آزادی خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ وہ ایران کے خارجہ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ایرانی صدر نے اپنی تقریر میں خبردار کیا کہ اگر امریکی پابندیوں نے ایران کو کمزور کیا تو مغرب کو منشیات، تارکینِ وطن اور دہشت گردی کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پابندیاں عائد کرنے والوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر منشیات اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ایران کی صلاحیت متاثر ہوئی تو انہیں بھی اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔واضح رہے کہ افغانستان کے پڑوس میں ہونے کی وجہ سے انسدادِ منشیات کی عالمی کوششوں میں ایران کا بڑا حصہ ہے اور ایرانی حکام ہر سال افغانستان سے اسمگل ہونے والی سیکڑوں من افیون اور دیگر منشیات قبضے میں لیتے ہیں۔دریں اثنا ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کو خطے کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکیوں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کو ہتھیاروں کی فروخت کا حجم ناقابلِ یقین ہے جس نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کی ضروریات سے کہیں زیادہ اسلحے کی فراہمی امریکہ کی خطرناک پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی ممالک نے امریکہ کی طرف سے تہران پر عاید کردہ پابندیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایرانی اسٹیل اور فولاد کی خریداری روک دی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے “ایلنا” نے جمعہ کے روز اسٹیل یونین کے رکن احمد دنیا نور کے حوالے سے بتایا کہ یورپی ملکوں? نے ایرانی اسٹیل اور لوہے کی خریداری روک دی ہے، تاہم یورپی ممالک نے یقین دلایا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ایران سے بعض شعبوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی خاطر نیا لائحہ عمل مرتب کرے گا۔ تب تک ایران سے لوہے اور اسٹیل کی خریداری روک دی گئی ہے۔ایرانی عہدیدار احمد دنیا نور نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ایران سے فی الحال لوہے اور اسٹیل کی خریداری نہیں کرسکتے۔ امریکی پابندیوں کے بعد یورپ کے لیے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنا مشکل ہے تاہم اس حوالے سے یونین کوئی نیا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔دنیا نور کا کہنا تھا کہ جب تک ایران اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے طے کردہ لائحہ عمل “SPV” پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا اس وقت تک یورپی کمپنیاں یہ جاننے کی کوشش کررہی ہیں کہ آیا ان کی میزبانی کون کرے گا۔خیال رہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد تہران پرماضی میں عاید کردہ پابندیاں بحال کر دی ہیں۔ چار نومبر کو امریکہ نے ایران پرپابندیوں کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔

جواب چھوڑیں