جموں و کشمیر کے موضع بھیلان میں ایک مسلم شخص پنچ منتخب

جموں و کشمیر کے بھدروا ٹاؤن میں ایک ہندو اکثریتی موضع نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی مثال قائم کرتے ہوئے وہاں کے واحد مسلم خاندان کے سربراہ کو اپنا پنچ منتخب کیا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں 9 مراحل پر مشتمل پنچایت انتخابات کا حال ہی میں اختتام ہوا ہے۔ مویشی پالن گجر خاندان سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ چودھری محمد حسین ‘ موضع بھیلان ۔ کھروتھی کی’ ہنگا‘ پنچایت کے پنچ بن گئے ہیں۔ اتفاقاً حسین ، تقریباً 450 افراد پر مشتمل موضع کے واحد مسلم خاندان کے رکن ہیں ۔ وہ اپنی اہلیہ ، پانچ لڑکوں اور ایک بہو کے ساتھ یہاں مقیم ہیں ۔ انہوں نے اپنی چاروں دختروں کی شادی کردی ہے ۔ ایک مقامی شخص 57 سالہ دھونی چند نے بتایا کہ آج کل کے بٹے ہوئے اور فرقہ وارانہ خطوط پر چلائے جانے والے سماج میں یہ بات عجیب و غریب معلوم ہوگی لیکن ہمیں اپنے بھائی چارہ پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی برادری نے متفقہ طور پر حسین کو منتخب کیا ہے ، تاکہ ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہم کی مثال قائم کی جاسکے اور بھائی چارہ کو فروغ دیا جاسکے ، جو ملک کی طاقت ہے۔ دھونی چند نے کہا کہ سماج کو تقسیم کرنے اور مذہب کے نام پر پھوٹ ڈالنے والی تقاریر کے باوجود ہمارا یہ عقیدہ برقرار ہے کہ ہم ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ اتنے عرصہ میں ان تقاریر نے ہمارے باہمی تعلقات کو تباہ نہیں کیا ہے اور آگے بھی ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی عوام نے حسین کو منتخب کیا ، تاکہ اس دور دراز علاقہ سے ملک کو ایک پیام دیا جاسکے اور حسین کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے موضع کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حسین موضع کے مسائل سے نمٹنے کے اہل ہیں ، لیکن ہم نے انہیں سماج میں ایک مثال قائم کرنے کے لیے منتخب کیا ہے اور حسین کو یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ وہ اپنے آپ کو یکا و تنہا محسوس نہ کریں۔ اس فیصلہ پر موضع کے نوجوان بھی خوش ہیں۔ انہیں بھیلان کے ساکن ہونے پر فخر ہے۔ پوسٹ گریجویشن کے ایک طالب ِ علم 24 سالہ ہرش سنگھ نے بتایا کہ اس موضع میں پیدا ہونے پر میں اپنے آپ کو خوش نصیب محسوس کررہا ہوں ، جہاں میرے بزرگوں نے موجودہ صورتِ حال میں ایک جرأتمندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ سماج مجموعی طور پر ہمارے بزرگوں کے اس فیصلہ سے سبق حاصل کرے گا اور باہمی اعتماد و بھروسہ کو تباہ کرنے پر کمربستہ عناصر کو یکا و تنہا کرتے ہوئے ملک کو بچائے گا۔ دیہاتیوں کے متفقہ فیصلہ سے حسین نہ صرف جذباتی ہوگئے ہیں ، بلکہ موضع کے عوام کی بہبود کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے پرجوش بھی ہوچکے ہیں ۔

جواب چھوڑیں