غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ ‘متعدد فلسطینی زخمی

ٌفلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر جمعہ کے روز تحریک حق واپسی کے لیے نکالے گئے مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔غزہ میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے جمعہ کے روز خراب موسم کے باوجود سیکڑوں فلسطینی سرحد پر جمع ہوئے اور اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے تشدد سے 33 فلسطینی زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعہ کے روز سخت بارش کے باوجود ہزاروں افراد نے سرحد پر جمع ہو کر حق واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے مظاہرہ کیا۔اسرائیلی فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری زخمی ہوگئے۔خیال رہے کہ 30 مارچ 2018ء سے غزہ کی سرحد پر جاری ہفتہ وار مظاہروں میں اسرائیلی فوج کے پر تشدد حربوں کے نتیجے میں 175 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ادھر کل جمعہ کے روز فرانسیسی وزیراعظم اڈورڈ فیلپ نے غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے اور فلسطینی دھڑوں حماس اور تحریک فتح کے درمیان مصالحت پر زور دیا ہے۔فرانسیسی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پیرس میں اپنے فلسطینی ہم منصب رامی الحمد اللہ سے ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے دائمی حل کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی دھڑے مصالحت کریں اور اسرائیل غزہ پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرے۔فرانسیسی وزیراعظم نے بیت المقدس کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ دارالحکومت قرار دینے اور دو ریاستی حل پر زور دیا۔

جواب چھوڑیں