قطر کے عطیہ سے غزہ کے سرکاری ملازموں کو تنخواہیں مل گئیں

 غزہ میں ڈاک خانوں کے سامنے سرکاری ملازم لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے کیونکہ ڈاک خانے کے توسط سے انہیں تنخواہیں ادا کی جا رہی تھیں۔ایک ڈاک خانہ پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حامد الثانی کی ایک بڑی تصویر کے ساتھ ایک بینر لگا ہوا تھا جس میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔غزہ کے لگ بھگ 30 ہزار سیول ملازموں کی تنخواہوں کی ادائیگی قطر حکومت کے ایک خصوصی عطیہ سے کی گئی ہے۔فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز تنخواہوں کی ادائیگی پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر صرف ہوئے۔ یہ فنڈ 9 کروڑ ڈالر کے اس عطیے میں سے نکالا گیا تھا جو قطر نے چھ مہینوں کی تنخواہوں کے لیے دیا ہے۔غزہ کے سرکاری ملازم فلسطینیوں کے دو طاقت ور دھڑوں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں کسمپرسی کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ غزہ کا کنٹرول اسلام پسند گروپ حماس کے ہاتھ میں ہے جب کہ مغربی کنارے کا اقتدار صدر محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھوں میں ہے۔

جواب چھوڑیں