ممبئی دہشت گرد حملہ‘ لشکر طیبہ نے کرایا تھا: عمران خان

 پاکستانی وزیراعظم نے پہلی مرتبہ مانا ہے کہ 2008 کا ممبئی دہشت گرد حملہ پاکستانی دہشت گرد گروپ لشکر طیبہ نے کرایا تھا۔ عمران خان نے وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد واشنگٹن پوسٹ کو اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ میں نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ وہ کیس کا موقف معلوم کرے۔ اس کیس کی یکسوئی ہمارے مفاد میں ہوگی کیونکہ یہ دہشت گرد حرکت ہے۔ عمران خان نے افسوس ظاہر کیا کہ ان کی حکومت نے پرامن بات چیت کی بار بار پہل کی لیکن نئی دہلی نے اسے ٹھکرادیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں برسراقتدار جماعت کا رویہ مسلم دشمن‘ پاکستان دشمن ہے۔ وہاں الیکشن ہوجانے دیجئے ‘ بات چیت بحال ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ممبئی حملہ کیس حل ہوجائے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مناسب تعلقات کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ وہ چین کے ساتھ اسلام آباد کا جیسا رشتہ ہے ویسا ہی رشتہ امریکہ کے ساتھ چاہتے ہیں نہ کہ کرایہ کی بندوق والا رشتہ۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہمیں کرایہ کے سپاہی کسی اور کی جنگ لڑنے کے لئے استعمال کرے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا وہ پاک ۔ امریکہ تعلقات میں گرمجوشی چاہیں گے‘ وزیراعظم نے جواب دیا کہ سوپر پاور سے دوستی کون نہیں چاہے گا۔ وزیراعظم نے 2011 کے ایبٹ آباد آپریشن کی بھی مذمت کی جس میں امریکہ نے اُسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہونے کے امریکی الزام سے بھی انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن‘ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ پاکستان‘ طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پوری کوشش کرے گا کہ وہ بات چیت کی میز پر آجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھئے کہ لگ بھگ 40 فیصد افغانستان اب حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔

جواب چھوڑیں