میسی کے افغان مداح کو اغوا برائے تاوان کی دھمکیاں

پلاسٹک کی تھیلی سے لیونل میسی کی شرٹ بناکر پہن لینے سے دنیا بھر میں مشہور ہونے والے افغان بچے کی جان کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اسے اغوا برائے تاوان کی دھمکی ملی ہے۔ لیونل میسی کے 7 سالہ افغانی مداح مرتضیٰ احمدی کی تصویر 2 سال قبل انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا بھر میں مقبول ہوئی تھی جس میں انہیں پلاسٹک کی تھیلی کے اوپر اپنے آئیڈیل فٹبالر ارجنٹائن کے لیونل میسی کے نام اور نمبر کو تحریر کرکے جرسی کے طورپر پہنے دکھایا گیاتھا۔ یہ تصویر کابل کے قریبی شہر غزنی میں رہائش پذیر افغان خاندان کی غربت کی عکاسی بھی کررہی تھی۔ مرتضیٰ کے بڑے بھائی 15 سالہ ہمایوں نے نیلے اور سفید دھاریوں والی پلاسٹک کی تھیلی سے ارجنٹائن کی ٹیم کی جرسی بناکر دی اور اس پر مارکر سے لیونل میسی کا نام لکھ کر جنوری 2016 کے وسط میں تصویر فیس بک پر پوسٹ کردی تھی۔ لیونل میسی تک جب یہ خبر پہنچی تو میسی نے اپنے دستخط اور نیک خواہشات کے ساتھ اپنی شرٹ مرتضیٰ کو تحفہ کے طورپر پیش کردی۔ نومبر 2017 میں لیونل میسی نے اپنے افغان مداح کو قطر بلواکر ملاقات کی او ر اس تحفے میں اپنی شرٹ دی تھی۔ میسی کے تحفہ کے بعد اس بچے کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں جس کے باعث اس کو خاندان سمیت افغانستان سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان منتقل ہونا پڑا تھا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد ہی یہ خاندان واپس افغانستان چلا گیا اب انہیں افغانستان میں دوبارہ دھمکی ملی ہے جس کے بعد مرتضیٰ اور اس کاخاندان آبائی علاقہ سے ہجرت کرکے کابل چلا گیاہے اور شدید سردی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ مرتضیٰ کی والدہ شفیقہ احمدی نے کہاکہ ان کا بیٹا اب اسکول جانے سے قاصر ہے اور وہ کابل میں ایک ایسے کمرے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں حد سے زیادہ ٹھنڈ ہے جس کی وجہ سے مرتضیٰ بیمار ہوگیاہے۔ کاش! میرا بیٹا اتنا مشہور نہ ہوا ہوتا۔ کچھ لوگوں نے مرتضیٰ کو اغوا کرکے تاوان کی دھمکی دی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ مشہور ہونے کے بعد ان کے پاس بہت پیسہ آگیاہے اہلخانہ کے پاس کافی پیسہ ہوگا جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں۔ مرتضیٰ کے چچا آصف احمدی نے بتایاکہ ہمارے خاندان کو کم ازکم 10 خط اور متعدد فون کالز موصول ہوئیں جس میں مختلف جرائم پیشہ افراد نے دھمکی دی کہ اگر ہم نے رقم نہ دی تو وہ میرے بھتیجے کو اغواء یا قتل کردیں گے۔ افغانستان کی 3 کروڑ 80 لاکھ آبادی میں سے اکثریت غریب افراد پر مشتمل ہے اور مسلسل جنگ کے سبب ان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

جواب چھوڑیں