روس کا “بی بی سی” پر البغدادی کے افکار کو فروغ دینے کا الزام

 روسی حکام نے ماسکو اور لندن کے درمیان جاری کشیدگی کے جلو میں برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ پر داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے افکار کی ترویج کا الزام عاید کیا ہے۔ذرائع مطابق روسی حکام کا کہناہے کہ وہ ‘بی بی سی’ پر داعش اور البغدادی کے نظریات کی ترویج کے حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں۔روسی آرگنائزیشن برائے اطلاعات” روسکو مناڈ زور” کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی حکام برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف سے نشر کردہ ایک پروگرام کے اقتباسات کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا پروگرام میں پیش کردہ مواد داعش تنظیم اور ابوبکر البغدادی کے افکارو خیالات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے۔روسی حکام “بی بی سی” پرچلائے جانے والے پروگرامات کے مواد کو روس قانون میں انتہا پسندی کے خلاف معیار کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ روس نے “داعش” کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور روسی ذرائع ابلاغ بھی داعش کے خلاف سرگرم رہتے ہیں۔گذشتہ برس دسمبر میں روس اور برطانیہ کے درمیان ابلاغی میدان میں محاذ آرائی دیکھی گئی تھی۔ برطانیہ کے روسی ٹی وی چینل “رشیا ٹوڈے” پر جانب داری کا الزام عاید کیا تھا۔ اس کے جواب میں روسی نگرانی اتھارٹی نے کہا تھا کہ وہ “بی بی سی ورلڈ نیوز”اور روس میں اس کے زیراہتمام ویب سائیٹ کی مانیٹرنگ کررہا ہے۔”بی بی سی ورلڈ نیوز” انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والا ٹی وی چینل ہے جب کہ “بی بی سائیٹ” صرف انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔دوسری جانب ‘بی بی سی’ نے روس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غیر جانب داری کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ بی بی سی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے صحافتی پیشہ وارانہ امور کو انجام دے رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘بی بی سی’کسی کی بے جا حمایت اور مخالفت نہیں کرسکتا۔ صحافتی معیار اور غیر جانب داری کے اصول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے گا۔

جواب چھوڑیں