گرمیت رام رحیم ‘ صحافی قتل کیس میں خاطی

ہریانہ کے پنچکولہ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے جمعہ کے دن ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کو سرسہ کے صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کیس میں خاطی قراردیا۔ گرمیت رام رحیم کے 3 قریبی ساتھیوں کو بھی عدالت نے قصوروار ٹھہرایا۔ کشن لال‘ کلدیپ اور نرمل کو جو عدالت میں موجود تھے‘ پولیس نے فوری حراست میں لے کر انبالہ جیل منتقل کردیا۔ فیصلہ سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ نے پنچکولہ میں سنایا جو چندی گڑھ سے متصل ہے۔ چھترپتی کو جو سرسہ میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا‘ اکتوبر 2002 میں ہریانہ کے سرسہ ٹاؤن میں 5 گولیاں ماری گئی تھیں۔ چند دن ہسپتال میں رہ کر اس نے نومبر میں دم توڑدیا تھا۔ گرمیت رام رحیم کو روہتک کے قریب واقع سناریہ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ حاضر عدالت کیا گیا کیونکہ ہریانہ پولیس اور حکومت نے اسے عدالت لانے کے تعلق سے سیکوریٹی خدشات ظاہر کئے تھے۔ سزا کا اعلان 17 جنوری کو ہوگا۔ جج جگدیپ سنگھ نے ہی گرمیت رام رحیم کو عصمت ریزی کے دو معاملوں میں 25 اگست 2017 کو خاطی قراردیا تھا اور 20 سال قیدمشت کی سزا سنائی تھی۔ پنچکولہ میں آج کورٹ کامپلکس کے اندر اور اطراف کڑے سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ فیصلہ سے قبل روہتک اور سرسہ کے علاوہ پنجاب کے بعض حصوں میں سیکوریٹی بڑھائی گئی تھی۔ ہریانہ اور پنجاب میں ڈیرہ سچا سودا کے نام چرچا گھروں پر پولیس تعینات کی گئی تھی تاکہ نظم وضبط کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو اور صورتحال قابو میں رہے۔ ڈیرا سچا سودا کے ماننے والوں کو بڑی تعداد میں اکٹھا ہونے نہیں دیا گیا۔ گرمیت رام رحیم کے سابق ڈرائیور کھٹا سنگھ نے قبل ازیں عدالت سے کہا تھا کہ صحافی کو ہلاک کرنے کا حکم ‘ رام رحیم نے دیا تھا ۔گرمیت رام رحیم پنجاب اور ہریانہ میں لگ بھگ 20 برس سیاسی قائدین اور جماعتوں کا دلارا تھا کیونکہ وہ انہیں اپنے حامیوں کے ووٹ دلانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چھترپتی قتل کیس کے علاوہ گرمیت رام رحیم کو ڈیرہ کے سابق منیجر رنجیت سنگھ کے قتل کیس کا بھی سامنا ہے جس کی سماعت سی بی آئی عدالت میں جاری ہے۔ رنجیت سنگھ کو جو سمجھا جاتا ہے کہ ڈیرہ سچا سودا ہیڈکوارٹرس میں ہونے والی کرتوتوں سے باخبر تھا‘ جولائی 2003 میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں