امریکی کانگریس کی پہلی ہندو رکن تلسی گبارڈ ‘ صدارتی الیکشن لڑیں گی

آئندہ سال کے الیکشن میں امریکی صدارت کی دوڑ میں ایک ہندو نمائندہ دکھائی دینے کا امکان ہے۔ ایک جزوی ہندوستانی نژاد سینیٹر‘ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی الیکشن لڑنے کے لئے کوشاں ہے۔ امریکی کانگریس کے لئے منتخب پہلی ہندو تلسی گبارڈ (37 سالہ) نے جمعہ کے دن اعلان کیا کہ وہ صدارتی الیکشن لڑیں گی۔ 54 سالہ کملا حارث جو ہندوستانی۔ آفریقی نژاد ہیں اور عیسائی باپٹسٹ ہیں‘ توقع ہے کہ آئندہ ہفتہ ڈیموکریٹک پارٹی سے نامزدگی کے لئے اپنی امیدواری کا اعلان کریں گی۔ کئی اخباری اطلاعات میں ان کے قریبی ذرائع کے حوالہ سے یہ بات کہی گئی ہے۔ یہ بھی قیاس لگایا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ کا عہدہ مئی میں چھوڑنے والی نکی ہیلی‘ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بن سکتی ہیں بشرطیکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ الیکشن نہ لڑیں۔ تلسی گبارڈ‘ ہندوستانی نژاد ہیں لیکن ان کا تعلق ہوائی کے ہندو گھرانہ سے ہے۔ انہوں نے بھگوت گیتا پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا۔ وہ آزاد خیال ڈیموکریٹ ہیں جس نے پارٹی قیادت سے اختلاف کیا۔ انہوں نے سی این این سے انٹرویو میں کہا کہ میں نے صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور باقاعدہ اعلان آئندہ ہفتہ کروں گی۔ عراق میں کام کرچکی تلسی گبارڈ نے صدارتی الیکشن لڑنے کی وجہ بتائی کہ اصل مسئلہ جنگ اور امن کا ہے۔ وہ آرمی نیشنل گارڈ میں میجر ہیں۔ اپنے فوجی پس منظر کے باوجود انہوں نے شام میں امریکہ کی مداخلت کی مخالفت کی تھی اور شام جاکر صدر بشارالاسد سے ملنے پر تنقید جھیلی تھی۔ وہ ہندوستان کی پرزور حامی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو امریکی امداد کی کٹوتی کی وکالت کی تھی۔

جواب چھوڑیں