ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد کا اعلان

کبھی ایک دوسرے کی کٹر حریف رہی سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ہفتہ کے دن اعلان کیا کہ وہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے لئے یوپی میں اتحاد کررہی ہیں۔ وہ 38-38 نشستوں پر الیکشن لڑیں گی اور کانگریس کو اتحاد سے باہر رکھیں گی۔ دونوں پارٹیوں نے تاہم کہا کہ وہ امیٹھی اور رائے بریلی میں امیدوار نہیں اتاریں گی۔ یہ 2 حلقے کانگریس صدر راہول گاندھی اور صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی کے گڑھ ہیں۔ انہوں نے 2 نشستیں چھوٹے اتحادیوں کے لئے بھی چھوڑی ہیں۔ یوپی میں لوک سبھا کی 80 نشستیں ہیں۔ لکھنو میں مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو اور بی ایس پی صدر مایاوتی نے کہا کہ یہ (اتحاد) گرو۔ چیلا وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کی نیند اڑادے گا۔ مایاوتی نے پھولپور ‘ گورکھپور اور کیرانہ پارلیمانی ضمنی الیکشن میں بی جے پی کی شکست کے حوالہ سے کہا کہ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ جس طرح ہمارے اتحاد نے لوک سبھا ضمنی الیکشن میں بی جے پی کو ہرایا اسی طرح ہم عام انتخابات میں بھگوا جماعت کو کچل دیں گے۔ اتحاد میں کانگریس کو شامل نہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے کئی سال کے اقتدار میں غربت‘ بے روزگاری اور کرپشن میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ مختلف دفاعی معاملتوں میں اسکام بھی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس سے اتحاد کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ مایاوتی نے کہا کہ ماضی میں میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ووٹ تو کانگریس کو ملے لیکن کانگریس کے ووٹ ہمیں نہیں ملے۔کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے سے ہمارا بھلا نہیں ہوا جبکہ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد میں ووٹ ٹرانسفر پرفیکٹ ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کا تقابل کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی نافذ کی جبکہ بی جے پی غیرمعلنہ ایمرجنسی کے لئے ذمہ دار ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس لکھنو کی پوش ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ 2014 میں بی جے پی نے اترپردیش سے 71 نشستیں جیتی تھیں۔ اس کی حلیف اپنا دَل کو 2 نشستیں ملی تھیں۔ سماج وادی پارٹی نے 5 اور کانگریس نے 2 نشستیں جیتی تھیں جبکہ بہوجن سماج پارٹی کو ایک بھی نشست نہیں ملی تھی۔ سینئر بی جے پی قائد اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایس پی اور بی ایس پی نے نہ تو ملک کے لئے اور نہ اترپردیش کے لئے بلکہ اپنی بقا کے لئے اتحاد کیا ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر مودی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

جواب چھوڑیں