فی الحال ایمرجنسی کے اعلان کا کوئی ارادہ نہیں: ٹرمپ

میکسیکو کی سرحد پردیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے امریکی کانگریس کے مبینہ انکار سے پیدا صورتحال میں امریکہ میں تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن آج 22 ویں دن میں داخل ہو گیا۔وفاقی حکومت کے 8 لاکھ ملازمین تنخواہوں سے محروم بتائے جاتے ہیں۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نیاگرچہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فنڈ حاصل کرنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی دیدی تھی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سر دست وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی حالات کا اعلان کرنے پر غور نہیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنی عجلت میں نہیں ہیں۔امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے کانگریس کیمبینہ طور پر انکار پربظاہر ردعمل میں صدر نے بھی سرکاری اداروں کے لئے پیش بجٹ پر دستخط سے انکارکردیا۔بجٹ کی عدم منظوری کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انویسٹگیشن(ایف بی ا?ر) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔خبروں کے مطابق 8 لاکھ ملازمین میں سے ساڑھے 3لاکھ ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجا جاچکا ہے جبکہ بقیہ ملازمین بغیر تنخواہوں کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ڈیموکریٹس اراکین کی اکثریت پر مشتمل امریکی ایوانِ نمائندگان نے شٹ ڈاؤن کے باعث بند ہوجانے والے کچھ وفاقی اداروں کو فنڈز جاری کرنے کے لیے بل منظور کرلیا۔اس بل کی منظوری سے فنڈنگ سے محروم وفاقی اداروں میں سے دو اداروں محکمہ داخلہ اور تحفظ ماحولیات ایجنسی کے فنڈز بحال ہوجائیں گے۔باقی ملازمین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ تنخواہیں نہ ملنے سے انہیں سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے۔متاثر اداروں کے ملازمین اپنے گھروں کا سامان بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یہ شٹ ڈاؤن میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لئے کانگریس کی طرف سے فنڈجاری نہ کرنے پرمسٹر ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کے درمیان پیدا ہونیوالی رسہ کشی کا نتیجہ ہے۔شٹ ڈاؤن کا آج 22 واں دن ہے۔ اس سے قبل سابق صدر بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں 96-1995 میں طویل ترین شٹ ڈاؤن ہوا تھا جس کی مدت 21 دنوں کی تھی۔مسٹر ٹرمپ نے ایمرجنسی کے نفاذ کو ’آسان راِہِ فرار‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ براہ راست قومی ہنگامی صورت حال کی سمت میں آگے بڑھنے نہیں چاہتے۔ تاہم انہوں نے زور دیکر کہا کہ انہیں یہ قدم اٹھانے کا ا?ئینی حق حاصل ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی قانون سازوں کے ساتھ بات چیت اور مالیاتی بل پر ووٹنگ کے ذریعہ اس اس معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔کانگریس کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کے فنڈز منظور کرنے ہوں گے۔ڈیموکریٹس بھی اپنے اقدام پر ڈٹے نظر ا?رہے ہیں۔ وہ سرحدی دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کرنے پر آمادہ نہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کریگ لسٹ نامی اشتہاری ویب سائٹس پر کم قیمت میں اپنا ذاتی سامان فروخت کرنے والوں کے اشتہارات کا انبار لگ گیا۔لوگ بچوں کے کھلونوں سے لے کر بستروں تک فروخت کرنے کے اشتہار ڈال رہے ہیں جن کے لیے ’حکومتی شٹ ڈاؤن اسپیشل‘نامی کیٹیگری بنائی گئی ہے۔کئی لوگوں نے مالی مشکلات کے سبب بے روزگاری کا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دینی بھی شروع کردی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں کچھ فوڈ بینکس تنخواہوں سے محروم لوگوں کو مفت کھانا بھی مہیا کررہے ہیں۔آئی اے این ایس کے بموجب ٹرمپ نے جنوبی سرحد پر ایمگریشن معاملہ میں قومی ایمرجنسی کے اعلا ن کے منصوبہ کو ملتوی کردیاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچیکہ یہ آسان راستہ ہے تاہم وہ بعد ازاں کسی بھی وقت اس کے اعلان کیلئے تیار رہیں گے ۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سربراہی میں کل وائٹ کے کابینہ روم میں گول میز مباحثہ ہوا۔ صدر نے امریکہ کی جنوبی سرحد پر صورت حال کو ’’چڑھائی‘‘ کی نوعیت کا انداز قرار دیتے ہوئے، اس بات کااشارہ دیا کہ وہ قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان نہیں کریں گے، جس کی بدولت اْنھیں طویل مدت سے عہد کردہ دیوار کی تعمیر کا ایک قانونی اختیار مل سکتا ہے۔ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹرمپ نے کہا کہ دیوار کی تعمیر کے لیے وہ فی الحال، ہنگامی صورت حال کے اعلان کا ارادہ نہیں رکھتے، اور کہا کہ ’’یہ ایسا معاملہ ہے جو کانگریس ہی کر سکتی ہے‘‘۔ڈیموکریٹس نے بجٹ پر ووٹ سے انکار کیا ہے جس میں 5 ارب ڈالر سے زیادہ کے فنڈ کی منظوری دی جائے، جس سے میکسیکو سرحد کے ساتھ ایک مستقل باڑ تعمیر کی جا سکے؛ جب کہ ٹرمپ نے حکومتی بجٹ کے کسی دستاویز پر دستخط سے انکار کیا ہے جب تک اس میں رقوم فراہمی کا معاملہ شامل نہ ہو۔اس تعطل کے نتیجے میں جزوی سرکاری بندش جاری ہے جسے اب 21 دِن ہوگئے ہیں، جو امریکی تاریخ کی طویل ترین شٹ ڈاؤن ہے۔رقوم کی عدم فراہمی کے باعث وفاقی حکومت کی تقریباً ایک چوتھائی، جس میں ہوم لینڈ سکیورٹی اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ شامل ہیں، متاثر ہوئے ہیں۔ اندازاً 8 لاکھ وفاقی ملازمین کو تنخواہ نہیں مل رہی۔ٹرمپ نے جمعرات کے روز ٹیکساس کے سرحدی قصبے، مک ایلن کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ قومی ایمرجنسی کا اعلان کریں۔بقول اْن کے، ’’یا تو ہمیں کامیابی ہوگی، کوئی سمجھوتا طے پائے گا، چونکہ میرے خیال میں سمجھوتا ہی سب کی کامیابی ہوگا، یا پھر میں قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کروں‘‘۔ادھر، ڈیموکریٹ پارٹی کے اکثریت والے ایوانِ نمائندگان نے جمعے کے روز وفاقی اداروں کے فنڈ بحال کرنے کا بل منظور کیا، جو دیوار کے لیے رقوم مختص کرنے کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبے سے اتفاق نہ کرنے کے نتیجے میں بند پڑے ہیں۔وفاقی حکومت کیاندازاً8لاکھ ملازمین کو، جن میں ٹیکس کلیکٹر سے لے کر ایف بی آئی کے ایجنٹ تک آجاتے ہیں، تنخواہ نہیں مل پائی۔تاہم، کار سرکار کی مکمل بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، چونکہ سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی کے قائد مچ مکونیل نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو ایوان کے سامنے نہیں لائیں گے۔ریپبلکن جو سینیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اب تک ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اس بات پر مصر ہیں کہ اخراجاتی بل میں دیوار کی تعمیر کے لیے رقوم کی منظوری لازمی شرط ہے۔

جواب چھوڑیں