امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی قطر میں آمد

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو آج قطر پہنچ گئے جبکہ وہ واشنگٹن کے خلیجی حلیفوں کے درمیان سفارتی اختلافات کے خاتمہ پر زور دے رہے ہیں ۔ سرکردہ امریکی سفارتکار کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہورہاہے جبکہ 18 ماہ سے زائد طویل تنازعہ جاری ہے جس میں ریاض اور اس کے حلیف دوحہ کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں ۔ پومپیو نے قاہرہ میں جمعرات کو بتایا کہ وقت آگیاہے کہ اس علاقہ کے عظیم تر مفاد کی خاطر دیرینہ رقابتوں کو ختم کیاجائے ۔ مائیک پومپیو نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ مشرقی وسطی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ۔ پومپیو ابو ظہبی سے دوحہ پہنچے جہاں انہوں نے ولیعہد محمد بن زید سے کل ملاقات کی ۔ بعد ازاں توقع ہے کہ ریاض پہنچیں گے جہاں وہ ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی امکانی ملاقات پر ہر شخص کی توجہ مرکوز ہے ۔ اس دورہ سے تین ماہ قبل سعودی صحافی جمال خشوگی کا استنبول میں ترکی کے قونصل خانہ میں قتل ہوا تھا ۔ سعودی عرب ‘متحدہ عرب امارات بحرین ‘مصر جو امریکی حلیف ہیں انہوں نے جون2017 میں قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرتے ہوئے اس پر الزام پر عائد کیاکہ وہ دہشت گروپس کی مدد کررہاہے اور سعودی عرب کے کلیدی رقیب ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی کوشش کررہاہے ۔ قطر جو خود بھی امریکہ کا حلیف ہے ‘ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان ممالک پرالزام لگارہاہے کہ وہ قطر میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں ۔ واشنگٹن ابتداء میں ایسا معلوم ہورہاتھا کہ اس بائیکاٹ کی تائید کررہاہے تاحال وہ ان ممالک کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھوانے کی کوشش میں ناکام رہاہے تاکہ واشنگٹن کی علاقائی ترجیح یعنی ایران کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ مصالحت کی کوششوں میں رکاوٹ ہوگئی ہے جبکہ اس کااظہار حال ہی میں امریکی سفیر انتھونی کے استعفی سے ہوا جنہوں نے بظاہر علاقائی مفاہمت کے لیے علاقائی قائدین کی جانب سے بظاہر فقدان عزم پر استعفی دیا ۔ واشنگٹن کے لیے اس بحران کاانقلابی موڑ مشرقی وسطی کے حکمت عملی اتحاد (MESA )کی کامیاب شروعات ہے جبکہ یہ اتحاد ناٹو کے طرز پر سیکیورٹی سمجھوتہ ہے جس میں خلیجی ممالک مصر اور اردن شامل ہیں ۔ پومپیونے قاہر ہ میں بتایا کہ آج ہم ان میں سے ہر ملک سے اپیل کررہے ہیں اگلا اقدام کرے اوراس طرح سے ایم ای ایس اے کو مستحکم بنانے میں ہماری مدد کریں ۔ تاہم یہ کام آسان نہیں ہوگا ۔ پومپیو نے کل ابو ظہبی میں صحافیوں کو بتایا کہ تمام ممالک کو یکجا کرنا ایک پیچیدہ کام ہے۔ کیونکہ اس میں غلطی نہیں ہونی چاہئے ۔ ہم متعدد ممالک کے درمیان پیچیدہ سمجھوتہ پر بات چیت کررہے ہیں جبکہ ہم ان ممالک کی جانب سے اہم پابند عہد کی بھی اپیل کررہے ہیں ۔ آج ہم ہر ملک سے اپیل کریں گے کہ وہ آئندہ اقدام کریں اور MESA کو مستحکم بنانے میں ہماری مدد کریں ۔ قاہرہ میںپومپیو نے یہ بات بتائی ‘انہوں نے بتایا کہ وہ باور کرتے ہیں کہ آگے بڑھانے کا راستہ موجود ہے جہاں مشترکہ طور پر سمجھوتہ کئے جاسکتے ہیں ۔

جواب چھوڑیں