تلنگانہ میں دھان خریداری نظام کی ستائش

سکریٹری عوامی نظام تقسیم حکومت ہند روی کانت نے ریاست تلنگانہ میں دھان کی خریدی کے نظام کی ستائش کی اور کہا کہ ریاستی حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہے جس میں ہر پانچ کیلو میٹر پر ایک خریداری مرکز قائم کرتے ہوئے کسانوں کو دھان فروخت کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ان مراکز پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقل ترین امدادی قیمت پر کسانوں سے دھان خریدا جارہا ہے ۔ روی کانت نے تلنگانہ میں دھان خریدی نظام کے مشاہدہ کیلئے ریاست کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کل شہر حیدرآباد میں پی ڈی ایس پر عمل آوری ، ایف سی آئی کے ساتھ ریاستی سیول سپلائز عہدیداروں سے ملاقات بھی کی ۔ انہوںنے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ کھمم، کتہ گوڑم، سدی پیٹ ، منچریال اور جئے شنکر بھوپال پلی اضلاع کے کسانوں سے بات چیت بھی کی جو مختلف مراکز پر دھان فروخت کرنے میں مصروف تھے ۔ انہوں نے کسانوں سے مختلف سوالات کئے جن میں پیداوار کیسی اور کتنی ہوئی ہے۔ آیا آپ کو اقل ترین امدادی قیمت مل پارہی ہے ۔ کیا خریدی مراکز تک آپ کی رسائی ممکن ہے ، آپ کے بینک کھاتوں میں فروخت دھان کی رقم منتقلی کیلئے کتنا وقت لگ رہا ہے، شامل ہیں کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت کی فراہمی کیلئے ریاستی حکومت نے جو پالیسی بنائی ہے ، وہ حقیقی طور پر قابل ستائش ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی یہ پالیسی، ملک کی دیگر ریاستوں کیلئے یقینا قابل تقلید و قابل نمونہ ہے۔ انہوںنے محکمہ سیول سپلائز کے عہدیداروں سے یہ پوچھا کہ رواں سال 208 فیصد زیادہ دھان خرید نے کی کیا وجہ ہے ۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کمشنر سیول سپلائز اکن سبھر وال نے روی کانت کو ایک فہرست حوالے کی جس میں زائد دھان خرید نے کے اسباب کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ کمشنر اکن سبھروال نے سکریٹری پی ڈی ایس حکومت ہند روی کانت کو بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں پورٹیبلیٹی سسٹم، انتہائی کامیاب رہا ہے ۔ اس نظام کے تحت گذشتہ 10 ماہ کے دوران 1,13,74,658 روپے کالین دین ہواہے ۔ انہوںنے کہا کہ بائیو میٹرک نظام سے معمرین اور خواتین کو راشن کے حصول میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ ان کے مشکلات کو دور کرنے کیلئے محکمہ سیول سپلائز نے ریاست کے5186 راشن دکانات میں ’’آیرش‘‘ طریقہ کار کو اپنایا ہے اور ان شاپس میں اس نئے طریقہ کے مطابق استفادہ کنندگان میں راشن سربراہ کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *